مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 52
مکتوبات احمد ۵۲ جلد اول اگر آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو آپ پر حجت تمام ہو گی اور اس کارروائی کے (کہ آپ کو خط رجسٹری شدہ ملا اور پھر آپ نے اُس کی طرف توجہ کو مبذول نہ فرمایا) حصہ پنجم کتاب براہین احمد یہ میں پوری تفصیل سے بحث کی جاوے گی اور اصل مدعا خط جس کے ابلاغ کیلئے میں مامور ہوا ہوں یہ ہے کہ دین حق جو خدا کی مرضی کے موافق ہے صرف اسلام ہے۔ اور کتاب حقانی جو منجانب اللہ محفوظ اور واجب العمل ہے صرف قرآن ہے۔ اس دین کی حقانیت اور قرآن شریف کی سچائی پر عقلی دلائل کے سوا آسمانی نشانوں (خوارق و پیشگوئیوں ) کی شہادت بھی پائی جاتی ہے جس کو طالب صادق اس خاکسار ( مؤلف براہین احمدیہ ) کی صحبت اور صبر اختیار کرنے سے بمعائنہ چشم تصدیق کر سکتا ہے ۔ آپ کو اس دین کی حقانیت یا ان آسمانی نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ طالب صادق بن کر قادیان میں تشریف لاویں اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر آسمانی نشانوں کو بچشم خود مشاہدہ کر لیں ولیکن اس شرط و نیت سے ( جو طالب صادق کی نشانی ہے ) کہ بمجرد معائنہ آسمانی نشانوں کے اسی جگہ قادیان میں مشرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہو جاویں گے ۔ اس شرط ونیت سے آپ آویں گے تو ضرور انشاء اللہ تعالیٰ آسمانی نشان مشاہدہ کریں گے ۔اس امر کا خدا کی طرف سے وعدہ ہو چکا ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں ۔ اب آپ تشریف نہ لاویں تو آپ پر خدا کا مواخذہ رہا اور بعد انتظار تین ماہ کے آپ کی عدم توجہی کا حال درج حصہ پنجم کتاب ہوگا اور اگر آپ آویں اور ایک سال تک رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دوسو روپیہ ماہوارہ کے حساب سے آپ کو حرجانہ یا جرمانہ دیا جاوے گا۔ اس دوسو روپیہ ماہوارہ کو آپ اپنی شایانِ شان نہ سمجھیں یا تو اپنی حرج اوقات کا عوض یا ہماری وعدہ خلافی کا جرمانہ جو آپ اپنی شان کے لائق قرار دیں گے ہم اُس کو بشرط استطاعت قبول کریں گے۔ طالبان حرجانہ یا جرمانہ کے لئے ضروری ہے کہ تشریف آوری سے پہلے بذریعہ رجسٹری ہم سے اجازت طلب کریں اور جو لوگ حرجانہ یا جرمانہ کے طالب نہیں ان کو اجازت طلب کرنے کی نہیں ۔ اگر آپ بذات خود تشریف نہ لاسکیں تو آپ اپنا وکیل جس کے مشاہدہ کو آپ معتبر اور اپنا مشاہدہ سمجھیں روانہ فرما دیں مگر اس شرط سے کہ بعد مشاہدہ اس شخص کے آپ اظہار اسلام یا ( تصدیق خوارق ) میں توقف نہ فرماویں۔ آپ اپنی شرط اظہار اسلام ( تصدیق خوارق ) ایک سادہ کاغذ پر جس پر چند ثقات مختلف مذاہب کی