مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 50

مکتوبات احمد ۵۰ جلد اول میں خوش ہو رہے ہیں ہیں۔اب ۔ اب چونکہ میں نے اس روشنی روشنی کو کو آ آپ جیسے لوگوں کی سمجھ کے موافق نہایت صاف اور سلیس اُردو میں کھول کر دکھلایا ہے اور اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ لوگ سخت ظلمت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں تک کہ جس کے سہارے پر تمام دنیا جیتی ہے اُس کی نسبت آپ کا یہ خیال ہے کہ وہ تمام فیضوں کا مبداً نہیں اور تمام ارواح یعنی جیو اور اُن کی روحانی قوتیں اور استعدادیں اور ایسا ہی تمام اجسام صغار یعنی پر کرتی خود بخودانا دی طور پر قدیم سے چلے آتے ہیں اور تمام بہنر یعنی گن جو اُن میں ہیں وہ خود بخود ہیں۔ اور اس فیصلہ کو صرف عقلی طور پر نہیں چھوڑا بلکہ اسلام کے پاک گروہ میں وہ آسمانی نشان بھی ثابت کئے ہیں کہ جو خدا کی برگزیدہ قوم میں ہونے چاہئیں اور ان نشانوں کے گواہ صرف مسلمان لوگ ہی نہیں بلکہ کئی آریہ سماج والے بھی گواہ ہیں اور بفضل خداوند کریم دن بدن لوگوں پر کھلتا جاتا ہے کہ برکت اور روشنی اور صداقت صرف قرآن شریف میں ہے اور دوسری کتا بیں ظلمت اور تاریکی سے بھری ہوئی ہیں ۔ - لہٰذا یہ خط آپ کے پاس رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں ۔ اگر آپ کتاب براہین احمد یہ کے مطالعہ کے لئے مستعد ہوں تو میں وہ کتاب مفت بلا قیمت آپ کو بھیج دوں گا ۔ آپ اس کو غور سے پڑھیں ۔ اگر اس کے دلائل کو لا جواب پاویں تو حق کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں کہ دنیا روزے چند ۔ آخر کار با خداوند ۔ میں ابھی اس کتاب کو بھیج سکتا تھا مگر میں نے سنا ہے کہ آپ اپنے خیالات میں محو ہو رہے ہیں اور دوسرے شخص کی تحقیقاتوں سے فائدہ اُٹھانا ایک عار سمجھتے ہیں ۔ سو میں آپ کو دوستی اور خیر خواہی کی راہ سے لکھتا ہوں کہ آپ کے خیالات صحیح نہیں ہیں ۔ آپ ضرور ہی میری کتاب کو منگا ۔ راہ کر دیکھیں ۔ اُمید ہے کہ اگر حق جوئی کی راہ سے دیکھیں گے تو اس کتاب کے پڑھنے سے بہت سے حجاب اور پردے آپ کے دور ہو جائیں گے اور اگر آپ اُردو عبارت پڑھ نہ سکیں تاہم کسی لکھے پڑھے آدمی کے ذریعہ سے سمجھ سکتے ہیں ۔ آپ اپنے جواب سے مجھ کو اطلاع دیں اور جس طور سے آپ تسلی چاہیں خداوند قادر ہے ۔ صرف سچی طلب اور انصاف اور حق جوئی درکار ہے۔ جواب سے جلد تر اطلاع بخشیں کہ میں منتظر ہوں اور اگر آپ خاموش رہیں تو پھر اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ آپ کو صداقت اور روشنی اور راستی سے کچھ غرض نہیں کیا ید الحکم ۷ ارجولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۲۰۱ ۲۰ را پریل ۱۸۸۳ء مطابق ۱۲ر جمادی الثانی ۱۳۰۰ھ