مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 656 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 656

مکتوبات احمد ۶۵۶ جلد اول مرتضی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ انا الصديق الاكبر لا يقولها بعدى الاكذاب و انا القرآن الناطق ( میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد یہ لفظ سوائے کذاب کے کوئی نہ کہے گا اور میں قرآن ناطق ہوں ) اور جو سید الشہداء سے معرکہ کربلا میں فخریہ اشعار مروی ہیں اور ایسا ہی تمام ائمہ اہل بیت اور سید عبدالقادر جیلانی اور دیگر ائمہ ہدی سے بھی ایسے کلمات صادر ہوئے ہیں ۔ ان کلمات کو نعمۃ اللہ اور تثبت رحمۃ اللہ کی قبیل سے شمار کرنا چاہیے نہ کہ ہرزہ سرائی اور خودستائی کی جنس سے ۔ اب رہی یہ بات کہ میاں فضل الرحمن کے پاس لوگ بہت آتے ہیں اور مرادیں پاتے ہیں اس کا آخری فقرہ تو پیراں نمی پرند مریداں سے پرانند میں داخل ہے۔ ہاں یہ قریب قیاس ہے کہ عوام کالانعام کہ جو نیک اور بد میں تمیز نہیں کر سکتے بہت آتے ہو نگے ۔ مگر کیا پنجاب کے مہنتوں سے بھی زیادہ جن کا لاکھ لاکھ آدمی چیلہ ہے ۔ ہمارے ہی قریب ایک جاہل اور نادان وجودی رہتا ہے جو موافق عادت وجودیوں کے تارک صوم وصلوٰۃ اور بہت سی ناکردنی اور نا گفتنی باتیں اس کی جماعت میں پائی جاتی ہیں مگر قریب ایک لاکھ کے اس کا مرید ہوگا ۔ بات یہ ہے کہ ایسوں کو تیسے مل جاتے ہیں ۔ حضرت سیدنا ومولانا مخدومنا ومخدوم الكل خاتم الرسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزاروں تکالیف اُٹھا کر تیرہ برس میں مکہ معظمہ میں سو یا سوا سو کافر کو خلعت ایمان پہنایا اور مسیلمہ کذاب پر صرف ایک ماہ میں لاکھ آدمی کے قریب ایمان لے آیا۔ یہ قاعدہ ہے کہ حق کا اثر دیر سے پڑتا ہے مگر دیر پا ہوتا ہے اور باطل کا اثر جلد پڑتا ہے اور جلدی ہی دور ہو جاتا ہے ۔ مردان خدا کی شان کمی جماعت سے کچھ کم نہیں ہوتی ۔ قیامت کے میدان میں کئی ایسے رسول آئیں گے جن کے ساتھ دو یا ایک پیروکار ہوگا اور بعض ایسے ہونگے کہ اکیلے آئیں گے کثرت پر خوش ہونا جہال کی عادت ہے جو حقیقت اور مغز کو نہیں دیکھتے۔ راستی اور حقیقی برکت کو تلاش نہیں کرتے آجکل بہتیرے حرام خور پیر زادے ہیں جو ہزاروں جاہل سادہ لوح ان کی قدم بوسی کیلئے آتے ہیں اور ان کے زعم میں وہ مرادیں دیتے ہیں لے سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ گمراہ کرے اس کو کون ہدایت دیوے ۔ اگر میاں فضل الرحمٰن میں کچھ قبولیت اور برکت ہے تو وہ کیوں مقابلہ کیلئے میدان میں نہیں آتے ۔ بہر حال جب الحکم نمبر ۳۱ جلد نمبر ۵ ۲۴ اگست ۱۹۰۱ء