مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 655 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 655

مکتوبات احمد ۶۵۵ مردی و شجاعت از زن مطلب اگر نه میدانی دانی جلد اول بھلا ہم نے تو خدا کے اذن سے بادشاہان وقت کو دعوت کی یہاں تک کہ قیصرہ ہند کے ولی عہد کو اسلام کا خط لکھا میاں فضل الرحمٰن کو کہیے اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو دعوت اسلام کی کر کے دکھلاوے پھر دعوی کرے کہ مجھ میں یہ طاقت ایمانی ہے۔ میں ایسے پیر زادوں کی حقیقت خوب جانتا ہوں مگر لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں ۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ جو لوگ مسکین اور بے بصارت اور اس راہ میں گئے گزرے ہیں وہ دعوی نہیں کر سکتے اور نہ اشتہار دے سکتے ہیں ۔ مگر جو لوگ رسول یا رسولوں کی مانند ہیں وہ قدیم سے دعوی کرتے چلے آئے ہیں ۔ اس مقام میں صاحب منصب امامت نے کیا عمدہ لکھا ہے چنانچہ اس کی عبارت یہ ہے۔ نکته اول : ۔ امامت ظل رسالت است و بنائے آل بر اظهار است نه بر اخفا بخلاف سائر ارباب ولایت - پس چنانکه ادعای منازل وجاہت وادعائے مقامات ولایت و بیان معاملات ربانی و کشف اسرار روحانی در حق ارباب ولایت مظنه سلب و زوال ولایت است همچنیں در حق ایشاں باعث ترقی و کمال آنچه از قسم کلمات فخریه از ائمه هدی سر بر میزند مثل آنچه از حضرت امیر المومنین علی مرتضی منقول است انا الصديق الاكبر لا يقولها بعدى الاكذاب و انا القرآن الناطق و آنچه از سید الشهد در معرکه کر بلا از اشعار مفاخرت مروی است و هم چنین از سائر ائمہ اہل بیت وسیدی عبد القادر جیلانی و دیگر ائمه هدای این کلمات را از قبیل تحديث بنعمة الله وتشبث برحمة الله باید شمردند از جنس ہرزہ سرائی و خودستائی ۔ کار پاکاں گرچه ماند را در از قیاس خود یگر نوشتن شیر و شیر ترجمہ: امامت ظل رسالت ہے ۔ بناء اس کی اظہار پر ہے نہ کہ اخفا پر ۔ برخلاف ولایت کے ۔ پس جیسا کہ منازل و و جاہیت اور مقامات کا دعوی اور معاملات ربانی و کشف و اسرار روحانی کا بیان ارباب ولایت کے حق میں مظغۂ سلب و زوال ہے اسی طرح ان کے حق میں ترقی و کمال کا باعث ہے ۔ وہ کلمات جو فخر کی اقسام سے آئمہ ہدی سے ظاہر ہوئے جیسا کہ حضرت امیر المؤمنین حضرت علی