مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 650 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 650

مکتوبات احمد ۶۵۰ جلد اول آزمائش کے لئے کیوں بلایا نہیں جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اپنی دانست میں پہلے بڑے بڑے کافروں کو حق کی طرف دعوت کی ہے اور اب تک ہم سمجھتے تھے کہ وجودیوں کے لئے بھی یہی دعوت کافی ہوگی ۔ سو اب آپ کی تحریر سے معلوم ہوا کہ وجودی علیحدہ طور پر اپنی دعوت چاہتے ہیں ۔ سوانشاء اللہ عنقریب وجودیوں کے لئے الگ اشتہار چھپوائے جائیں گے اور پنجاب اور ہندوستان اور اودھ کے وجود یوں کی طرف جو ناحق ضلالت اور کورانہ حالت میں پیر زادہ اور مشائخ بن بیٹھے ہیں روانہ کئے جائیں گے۔ لیکن اگر آپ کی روح جو وجودیت کے بخارات سے اُچھل رہی ہے اس بات کیلئے تڑپتی ہے کہ میرے لئے جلدی ہونی چاہیے تو میں آپ کے معاملہ کو ان اشتہارات تک بھی توقف میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ اللہ جل شانہ ہمارے ساتھ ہے وہ ہر ایک مخالف دین کو جو مقابل پر آوے گا ذلیل اور رسوا کرے گا۔ خواہ وہ وجودی ہوں یا یہودی یا عیسائی یا آریہ یا کوئی اور مگر شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے پاس ایک برس تک ٹھہریں۔ قادیان میں بعض وجودی رہتے ہیں جو دین اور سچائی کے سخت مخالف بلکہ اللہ اور رسول کے علانیہ منکر ہیں ۔ یقین ہے کہ بباعث ہم مادہ ہونے کے آپ کو ان سے بہت آرام مل جائے گا اور اُنس ہو جائے گا۔ بایں ہمہ رفع حجت کے لئے ہم اس بات پر بھی آمادہ ہیں کہ آپ کے آنے جانے کا تمام کرا یہ ہمارے ذمہ رہے۔ دو وقت روٹی جو کچھ نان و نمک ہو وہ بھی ہماری طرف کھاویں۔ مگر یہ سب اس شرط سے کہ ایک سال تک رہیں ورنہ کوئی ذمہ واری نہیں ہوگی ۔ سو اگر ایک سال تک رہنے کے بعد ہم اپنے دعوی میں جھوٹے نکلے تو وجودی لوگ جس قسم کی سزا ہمیں چاہیں دے دیں یا کچھ بطور سزا تاوان آپ مقرر کریں وہی حتی الاستطاعت ہمیں منظور ہے ۔ جس طرح چاہیں تسلی کرالیں لیکن اگر ہم سچے نکلے یعنی ہم میں کوئی ایسا امر خارق عادت پایا گیا جس کا وجودی لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے تو ہم ان سے کچھ نہیں مانگتے بجز اس کے کہ اس نا پاک اور شیطانی طریق سے سچے دل سے توبہ کریں اور صراط مستقیم اسلام میں داخل ہو جائیں ۔ اور اگر آپ بعد اس ہماری دعوت کے قادیان میں نہ آئے تو سمجھا جائے گا کہ آپ کو حق کی طلب نہیں تھی بلکہ وجود یوں کی عادت کے موافق صرف عِجُلٌ جَسَدٌ لَّهُ خَوَارٌ کے آپ مصداق تھے ۔ قوله : حرف درویشاں نہ بندد مرد دوں تا نخواند بر سلیمے آں فسوں