مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 635 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 635

مکتوبات احمد ۶۳۵ جلد اول اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا کر دیتا ہے ۔ بٹالوی صاحب یا درکھیں کہ اگر اس جماعت سے ایک نکل جائے گا تو خدا تعالیٰ اُس کی جگہ ہیں لائے گا ۔ اور اس آیت پر غور کریں ۔ فَسَوْفَ يَأْتِي الله بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكُفِرِينَ ! بالآخر ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میر عباس علی صاحب نے ۱۲ دسمبر ۱۸۹۱ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع کیا ہے جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ سو ان الفاظ سے تو ہمیں کچھ غرض نہیں ۔ جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے لیکن اُس اشتہار کی تین باتوں کا جواب دینا ضروری ہے۔ اوّل: یہ کہ میر صاحب کے دل میں دہلی کے مباحثات کا حال خلاف واقعہ جم گیا ہے سو اس وسوسہ کے دور کرنے کیلئے میرا یہی اشتہار کافی ہے بشرطیکہ میر صاحب اس کو غور سے پڑھیں ۔ دوم: یہ کہ میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں ۔ معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیا علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے منہ پھیرنے والا ۔ سوان اوہام کے دور کرنے کے لئے میں وعدہ کر چکا ہوں کہ عنقریب میری طرف سے اس بارہ میں رسالہ مستقلہ شائع ہوگا ۔ اگر میر صاحب توجہ سے اس رسالہ کو دیکھیں گے تو بشرط توفیق از لی اپنی بے بنیاد اور بے اصل بدظنیوں سے سخت ندامت اُٹھائیں گے ۔ سوئم: یہ کہ میر صاحب نے اپنے اس اشتہار میں اپنے کمالات ظاہر فرما کر تحریر فر مایا ہے کہ گویا اُن کو رسول نمائی کی طاقت ہے۔ چنانچہ وہ اس اشتہار میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس بارہ میں میرا مقابلہ نہیں کیا۔ میں نے کہا تھا کہ ہم دونوں کسی ایک مسجد میں بیٹھ جائیں اور پھر یا تو مجھ کو رسول کریم کی زیارت کرا کر اپنے دعاوی کی تصدیق کرادی جائے اور یا میں زیارت کرا کر اس بارہ میں فیصلہ کر ا دونگا۔ میر صاحب کی اس تحریر نے نہ صرف مجھے ہی تعجب میں ڈالا بلکہ ہر ایک واقف حال سخت متعجب ہو رہا ہے کہ اگر میر صاحب میں یہ قدرت اور کمال حاصل تھا کہ جب چاہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المائده : ۵۵