مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 636
مکتوبات احمد ۶۳۶ جلد اول کو دیکھ لیں اور باتیں پوچھ لیں بلکہ دوسروں کو بھی دکھلا دیں تو پھر انہوں نے اس عاجز سے بدوں تصدیق نبوی کے کیوں بیعت کر لی اور کیوں دس سال تک برا بر خلوص نماؤں کے گروہ میں رہے۔ تعجب کہ ایک دفعہ بھی رسول کریم اُن کی خواب میں نہ آئے اور ان پر ظاہر نہ کیا کہ اس کذاب اور مکار اور بے دین سے کیوں بیعت کرتا ہے اور کیوں اپنے تئیں گمراہی میں پھنساتا ہے ۔ کیا کوئی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کو یہ اقتدار حاصل ہے کہ بات بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری میں چلا جاوے اور اُن کے فرمودہ کے مطابق کار بند ہو اور اُن سے صلاح مشورہ لے لے ۔ وہ دس برس تک برا بر ایک کذاب اور فریبی کے پنجہ میں پھنسا ر ہے اور ایسے شخص کا مرید ہو جاوے جو اللہ اور رسول کا دشمن اور آنحضرت کی تحقیر کرنے والا اور تحت الثری میں گرنے والا ہو۔ زیادہ تر تعجب کا مقام یہ ہے کہ میر صاحب کے بعض دوست بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے بعض خواہیں ہمارے پاس بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آنحضرت نے اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ وہ شخص واقعی طور پر خلیفہ اللہ اور مجد د دین ہے اور اسی قسم کے بعض خط جن میں خوابوں کا بیان اور تصدیق اس عاجز کے دعوی کی تھی میر صاحب نے اس عاجز کو بھی لکھے۔ اب ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اگر میر صاحب رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں تو جو کچھ اُنہوں نے پہلے دیکھا وہ بہر حال اعتبار کے لائق ہوگا اور اگر وہ خواہیں اُن کی اعتبار کے لائق نہیں اور اضغاث احلام میں داخل ہیں ۔ تو ایسی خواہیں آئندہ بھی قابلِ اعتبار نہیں ٹھہر سکتیں ۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ رسول نمائی کا قادرا نہ دعوی کس قد رفضول بات ہے ۔ حدیث صحیح سے ظاہر ہے کہ تمثل شیطان سے وہی خواب رسول بینی کی مبرا ہوسکتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے حلیہ پر دیکھا گیا ہو۔ ورنہ شیطان کا تمثل انبیاء کے پیرا یہ میں نہ صرف جائز بلکہ واقعات میں سے ہے اور شیطان لعین تو خدا تعالیٰ کا تمثل اور اُس کے عرش کی تجلی دکھلا دیتا ہے۔ پھر انبیاء کا تمثل اُس پر کیا مشکل ہے ۔ اب جب کہ یہ بات ہے تو فرض کے طور پر اگر مان لیں کہ کسی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تو اس بات پر کیونکر مطمئن ہوں کہ وہ زیارت در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک کلیۂ نبوی پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر الله