مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 634 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 634

مکتوبات احمد ۶۳۴ جلد اول استقامتوں پر بھروسہ مت کرو۔ کیا استقامت میں فاروق رضی اللہ عنہ سے کوئی بڑھ کر ہوگا ؟ جن کو ایک ساعت کے لئے ابتلا پیش آ گیا تھا اور اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ اُن کو نہ تھا متا تو خدا جانے کیا حالت ہو جاتی ۔ مجھے اگر چہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے رنج بہت ہوا۔ لیکن پھر میں دیکھتا ہوں کہ جب کہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نمونہ پر آیا ہوں تو یہ بھی ضرور تھا کہ میرے بعض مدعیان اخلاص کے واقعات میں بھی وہ نمونہ ظاہر ہوتا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض خاص دوست جو اُن کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے جن کی تعریف میں وحی الہی بھی نازل ہو گئی تھی ۔ آخر حضرت مسیح علیہ السلام سے منحرف ہو گئے تھے۔ یہودا اسکر یوطی کیسا گہرا دوست حضرت مسیح کا تھا جو اکثر ایک ہی پیالہ میں حضرت مسیح کے ساتھ کھاتا اور بڑے پیار کا دم مارتا تھا۔ جس کو بہشت کے بارہویں تخت کی خوشخبری بھی دی گئی تھی اور میاں پطرس کیسے بزرگ حواری تھے جن کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ آسمان کی کنجیاں اُن کے ہاتھ میں ہیں ، جن کو چاہیں بہشت میں داخل کریں اور جن کو چاہیں نہ کریں۔ لیکن آخر میاں صاحب موصوف نے جو کر توت دکھلائی وہ انجیل پڑھنے والوں پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر اور اُن کی طرف اشارہ کر کے نعوذ باللہ بلند آواز سے کہا کہ میں اس شخص پر لعنت بھیجتا ہوں ۔ میر صاحب ابھی اس حد تک کہاں پہنچے ہیں ۔ کل کی کس کو خبر ہے کہ کیا ہو ۔ میر صاحب کی قسمت میں اگر چہ یہ لغزش مقدر تھی اور اصلها ثابت کی ضمیر تانیث بھی اُس کی طرف ایک اشارہ کر رہی تھی ۔ لیکن بٹالوی صاحب کی وسوسہ اندازی نے اور بھی میر صاحب کی حالت کو لغزش میں ڈالا ۔ میر صاحب ایک سادہ آدمی ہیں جن کو مسائل دقیقہ دین کی کچھ بھی خبر نہیں ۔ حضرت بٹالوی وغیرہ نے مفسدا نہ تحریکوں سے ان کو بھڑ کا دیا کہ یہ دیکھو فلاں کلمہ عقیدہ اسلام کے برخلاف اور فلاں لفظ بے ادبی کا لفظ ہے۔ میں نے سنا ہے کہ شیخ بٹالوی اس عاجز کے مخلصوں کی نسبت قسم کھا چکے ہیں کہ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ہے اور اس قدر غلو ہے کہ شیخ نجدی کا استثناء بھی اُن کی کلام میں نہیں پایا جاتا۔ تا صالحین کو باہر رکھ لیتے اگر چہ وہ بعض روگردان ارادت مندوں کی وجہ سے بہت خوش ہیں مگر انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ ایک ٹہنی کے خشک ہو جانے سے سارا باغ بر باد نہیں ہو سکتا۔ جس ٹہنی کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے خشک کر دیتا ہے اور کاٹ دیتا ہے اور اس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں ا الحجر : ۴۰