مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 633
مکتوبات احمد ۶۳۳ جلد اول ثابت قدم ہے ، متزلزل نہیں تو کیا اس الہام کو خلاف واقعہ کہا جائے گا۔ بہت سے الہامات صرف موجودہ حالات کے آئینہ ہوتے ہیں ۔ عواقب امور سے اُن کو کچھ تعلق نہیں ہوتا اور نیز یہ بات بھی ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے اُس کے سوء خاتمہ پر حکم نہیں کر سکتے کیونکہ انسان کا دل اللہ جل شانہ کے قبضہ میں ہے۔ میر صاحب تو میر صاحب ہیں اگر وہ چاہے تو دنیا کے ایک بڑے سنگدل اور مختوم القلب آدمی کو ایک دم میں حق کی طرف پھیر سکتا ہے۔ غرض یہ الہام حال پر دلالت کرتا ہے ۔ مال پر ضروری طور پر اُس کی دلالت نہیں ہے اور مال ابھی ظاہر بھی نہیں ہے ۔ بہتوں نے راستبازوں کو چھوڑ دیا اور پکے دشمن بن گئے مگر بعد میں پھر کوئی کرشمہ قدرت دیکھ کر پشیمان ہوئے اور زار زار روئے اور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور رجوع لائے۔ انسان کا دل خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اُس حکیم مطلق کی آزمائشیں ہمیشہ ساتھ لگی ہوئی ہیں ۔ سو میر صاحب اپنی کسی پوشیدہ خامی اور نقص کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے اور پھر اس ابتلا کے اثر سے جوش ارادت کے عوض میں قبض پیدا ہوئی اور پھر قبض سے سے خشکی خشکی اور اجنبیت اور اجنبیت سے ترک ادب اور ترک ادب سے ختم علی القلب اور خَتَمَ عَلَى الْقَلَبِ سے جہری عداوت اور ارادہ تحقیر و استحقاق لے و تو ہین پیدا ہو گیا ۔ عبرت کی جگہ ہے کہ کہاں سے کہاں پہنچے ۔ کیا کسی کے وہم یا خیال میں تھا کہ میر عباس علی کا یہ حال ہوگا ۔ مالک الملک جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ میرے دوستوں کو چاہئے کہ اُن کے حق میں دعا کریں اور اپنے بھائی فروماندہ اور در گذشتہ کو اپنی ہمدردی سے محروم نہ رکھیں اور میں بھی انشاء اللہ الکریم دعا کروں گا۔ میں چاہتا تھا کہ اُن کے چند خطوط بطور نمونہ اس رسالہ میں نقل کر کے لوگوں پر ظاہر کروں کہ میر عباس علی کا اخلاص کس درجہ پر پہنچا تھا اور کس طور کی خوا ہیں وہ ہمیشہ ظاہر کیا کرتے تھے اور کن انکساری الفاظ اور تعظیم کے الفاظ سے وہ خط لکھتے تھے لیکن افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں ۔ انشاء اللہ القدیر کسی دوسرے وقت میں حسب ضرورت ظاہر کیا جائے گا۔ یہ انسان کے تغیرات کا ایک نمونہ ہے کہ وہ شخص جس کے دل پر ہر وقت عظمت اور ہیبت سچی ارادت کی طاری رہتی تھی اور اپنے خطوط میں اس عاجز کی نسبت خليفة الله في الارض لکھا کرتا تھا ۔ آج اس کی کیا حالت ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے ڈرو اور ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ وہ محض اپنے فضل سے تمہارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور لغزش سے بچاوے۔اپنی لے نقل مطابق اصل ۔ لیکن یہاں سہو کتابت معلوم ہوتا ہے صحیح لفظ استخفاف ہے ۔ واللہ اعلم