مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 613 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 613

مکتوبات احمد ۶۱۳ مکتوب نمبر ۵۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي جلد اول از عاجز عائد باللہ الصمد غلام احمد - بخدمت اخویم مخدوم مکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ ایک خط وید کی حقیقت میں معہ چند اشتہار مولوی عبدالمجید صاحب بذریعہ پمفلٹ آپ کی ۔ خدمت میں ارسال ہیں ۔ ویدوں کی نسبت ہندوؤں کی طرف سے کبھی یہ دعوی نہیں ہوا کہ اُن کی تعلیم شرک اور مخلوق پرستی سے خالی ہے بلکہ سب ہندو جو تقریباً چودہ یا پندرہ کروڑ پنجاب اور ہندوستان میں رہتے ہیں ۔ بڑے پیار سے اُن دیوتاؤں کو مانتے ہیں جو وید میں لکھے گئے ہیں اور جس ہندو سے اُس کی بُت پرستی یا آتش پرستی یا دوسرے ہزاروں دیوتاؤں کی پوجا کی نسبت سوال کیا جائے کہ کس کتاب کے حکم سے یہ کام اختیار کیا ہے تو وہ جھٹ پٹ یہی جواب دیتا ہے کہ یہ سب طریق پرستش کا وید میں درج ہے اور اس کی ہدایت کے موافق ہم اُن چیزوں کی پرستش کر رہے ہیں اور در حقیقت یہ جواب اُس کا سچ ہے کیونکہ جس قدر ہندوؤں میں آتش پرستی و آب پرستی و آفتاب پرستی وغیرہ پرستشیں جاری ہیں ۔ اُن سب پرستشوں کا حکم وید ہی میں مندرج ہے اور نہ ایک اور نہ دو جگہ بلکہ صدہا جگہ اُن چیزوں کی پوجا کے لئے تاکید ہے اور وید کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو مخلوق پرستی کی تعلیم سے خالی ہو ۔ جیسا کہ یہ بات اُس شخص پر کھل سکتی ہے کہ جو وید کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی جگہ سے اُس کو پڑھے۔ غرض کہ وید کا یہ مقصود ہر گز نہیں ہے کہ وہ خلق اللہ کو توحید پر قائم کرے بلکہ اوّل سے آخر تک وید میں یہی تاکید پائی جاتی ہے کہ آگ اور ہوا اور سورج اور چاند اور ستاروں اور پانی وغیرہ کی پرستش کرنی چاہئے اور ان ہی چیزوں سے اپنی مرادیں مانگنی چاہئے ۔ یہی باعث ہے کہ جو کچھ آج تک وید کی تعلیم کا ہندوؤں کے دلوں پر اثر پڑا ہے۔ وہ یہی مخلوق پرستی ہے ۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کسی حصہ پنجاب یا ہندوستان میں ایسے ہندو بھی پائے جاتے ہیں جو مخلوق پرستی سے بیزار اور اپنے تمام عقائد اور عبادات میں موحد ہیں؟ حاشا وکلا ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ جہاں جاؤ اور