مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 614 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 614

مکتوبات احمد ۶۱۴ جلد اول جس ملک میں دیکھو جا بجا ہندو لوگ سخت درجہ کے شرک اور مخلوق پرستی میں گرفتار ہیں یہاں تک کہ انسان سے لے کر حیوانات اور نباتات تک ان نادانوں نے اپنے معبود ٹھہرا لئے ہیں ۔ نہ پانی چھوڑا ، نہ آگ، نہ ہوا، نہ پتھر بلکہ دنیا میں جو چیز از قسم اجرام علوی میں یا اجسام سفلی میں نظر آتی ہے وہ سب کے سب ہندوؤں کے معبود اور دیوتے ہیں اور جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اس قدر مخلوق پرستی میں ہندوؤں کا قصور نہیں ہے بلکہ یہ تمام قصور وید اور اُس کے شائع کرنے والوں کا ہے ۔ غرض وید جس جنس سے بھرا ہوا ہے وہ سب شرک ہے اور جو کچھ وید نے دنیا کو فائدہ پہنچایا وہ مشرکانہ تعلیم ہے جس میں آج تک سب ہندو مبتلا اور گرفتار ہیں اور کوئی ہندو اس مشرکانہ حالت میں اپنی غلطی اور قصور کا اقرار نہیں کرتا بلکہ سارے کے سارے یہی اقرار کرتے ہیں کہ یہ تحفہ ہمارے وید مقدس سے ہم کو ملا ہے اور اُس نے اسی راہ پر ہم کو چلایا ہے اور جب ہم بذات خود وید کو کھول کر دیکھتے ہیں تو ہندوؤں کو اُن کے اس بیان میں راست گو پاتے ہیں اور ہندوؤں کی مشرکانہ حالت جو ہزاروں برسوں سے چلی آتی ہے وہ اُن کی خود تراشیدہ معلوم نہیں ہوتی بلکہ وید کی پیروی کے نتائج ہیں جو بطور داغ ملامت یا کلنک کے ٹیکہ کے وید کی اندرونی حالت کو ظاہر کرتے ہیں ۔ تھوڑے دنوں سے پنڈت دیانند سرستی نے ( جو اس دنیا سے اب کوچ کر گئے ہیں ) اس خیال سے کہ اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ مشر کا نہ تعلیم ہر یک سلیم القلب کو بُری معلوم ہوتی ہے ۔ اس بے بنیا د خیال کے ثابت کرنے کیلئے بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ کسی طرح داغ مخلوق پرستی کی تعلیم کا وید کی پیشانی سے دھویا جائے ۔ اور مخلوق پرستی کی کا برخلاف اپنی تمام قوم کے یہ دعوی کر بیٹھے کہ اگرچہ وید میں بظاہر مشر کا نہ تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ مگر در پردہ اُس کی اندر کی تہہ میں توحید چھپی ہوئی ہے لیکن وہ اس اپنے مطلب کے پورا کرنے کیلئے کامیاب نہ ہو سکے ۔ ہندوستان اور پنجاب کے تمام محقق پنڈتوں نے ان کے خیالی وید بھاش کورڈ اور نامنظور کیا اور اُس پر یہ ریویو لکھے۔ کہ پنڈت صاحب کا یہ وید بھاش اصل میں ویدوں کی تفسیر نہیں ہے بلکہ اُس کو ایک نیا وید سمجھنا چاہئے جس کو پنڈت صاحب اپنے من کی گھڑت خیال سے بنا رہے ہیں ۔ ہندوؤں کے وید سے اُس کو کچھ تعلق نہیں بلکہ اُس سے سراسر مخالف اور منافی ہے ۔ اور جب پنڈت صاحب نے دیکھا کہ ہندوستان اور پنجاب کے پنڈتوں میں ہماری دال نہیں گلتی اور کوئی ہمارے دھو کہ میں نہیں آتا تو پھر انہوں نے ایک اور تدبیر سوچی کہ وہ مصنوعی وید بھاش یو نیورسٹی میں