مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 575
مکتوبات احمد ۵۷۵ جلد اول مرتب ہوں گی ۔ وَ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمیل اور تزکیہ نفس دو قسم پر ہے تَزْكِيهِ مِن حَيثُ الْعِلْم اور وہ یہ ہے کہ نفس کو حضرت باری عز وجل اور دار آخرت کی نسبت علم یقینی قطعی حاصل ہوا اور شکوک اور شبہات اور عقا ئد غلط اور فاسد سے نجات پا جائے۔ تركيه مِنْ حَيثُ العمل وہ ہے کہ جیسے فی الحقیقت حضرت باری عزاسمہ اس بات کا مستحق ہے کہ اُسی سے محبت ذاتی ہو اور جیسے فی الحقیقت حضرت باری کے وجود کے مقابل اور سب وجود پیچ اور کالعدم ہیں ۔ ایسے ہی سالک کیلئے حالت حاصل ہو جائے اور جب انسان کو حالت فنا حاصل ہوگئی تو وہ قوم اسرار موت اور دقائق حکمت جو زمین اور آسمان میں مخفی ہیں اُس کے نفس پر باذن اللہ تعالیٰ کھلنے شروع ہو جائیں گے اور کشفی طور پر ان کی کیفیت اُس پر ظاہر ہوتی جائے گی کیونکہ اسرار جمیع عالم بعینہ اسرار نفس ہیں ۔ پس جب نفس ببرکت فناء ا تم اپنے حجاب سے خلاصی پائے گا تو جو کچھ خدا نے اُس میں انوار مہیا رکھے ہیں اُن سب کو ظاہر کرے گا ۔ سو یہ معرفت تامہ ہے جو انسان کو بقا کے درجہ پر حاصل ہوتی ہے لیکن یہ معرفت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ۔ تمام انسانی کوششیں فنا کے مرتبہ تک ختم ہو جاتی ہیں اور پھر آگے معرفت الہی ہے اور جس پر موہبت کی نسیم چلتی ہے اسی پر وہ سب انوار ظاہر کئے جاتے ہیں جو اس کی روح میں مودع ہیں ۔ انسان کی روح میں ایک بڑا سلیقہ یہ ہے کہ وہ اس قدر خدا کے سہارے کی محتاج ہے کہ اُس کے بغیر جی ہی نہیں سکتی ۔ الوہیت اُس پر ایک ایسے طور سے محیط ہو رہی ہے کہ جو نہ تقریر نہ تحریراً نہ صراحتہ نہ کنایہ نہ توضیحا نہ تمثیلاً بیان میں آ سکتی ہے بلکہ سالک جب بقا کا مرتبہ موہبت حضرت الہی سے پاتا ہے تو وہ کیفیت کہ جو بیچون اور بیچگون ہیں ۔ اُس پر متجلی ہوتی ہے اور باوجود تحقیق تجلّی کے پھر بھی اُس کو بیان نہیں کر سکتا ۔ مَنْ عَرَفَ كُلَّ لِسانُه کے آل را که خبر شد خبرش باز نیامد ۔ غرض اسی تجلی کا نام معرفت تامہ ہے اور مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ کا مقصود حقیقی بھی ہے۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب ۔ آں مخدوم نے جو سوالات لکھنے کا طریق نکالا ہے بہت اچھا ہے ۔ مگر جائے تکلف درمیان نہ ہو یعنی خواہ نخواہ سوال نہ تراشا جائے بلکہ جب خدا کی طرف سے کوئی موقعہ پیش آ وے تب سوال کیا جائے ۔ سلف صالح کا مکتوبات اکابر کے لکھنے میں یہی طریق رہا ہے اور جس کی معرفت کو خدا تعالیٰ ا بنی اسراءیل : ۷۳ تاریخ بغدا الخطيب البغدادی جلد ۲ صفحه ۳۶۲ تصویر بیروت