مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 574 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 574

مکتوبات احمد ۵۷۴ مکتوب نمبر ۳۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعض کتب میں مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ - حدیث نبوی کر کے بیان کیا گیا ہے ۔ احیاء العلوم میں اس قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن میں محد ثین کو اپنے قواعد مقررہ کے رو سے کلام ہے۔ مگر اس قول میں کوئی ایسی بات نہیں جو قَالَ اللهُ وَقَالَ الرَّسُولُ سے منافی ہو۔ وَقَالَ اللهُ تَعَالَی ۔ وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ کے حضرت رب العالمین نے تمام عالم کو اسی غرض سے پیدا کیا ہے کہ تا وہ شناخت کیا جاوے۔ اور نفس انسانی ایک نسخہ جامع جميع اسرار عالم ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس کو کما حقہ علم نفس حاصل ہو۔ اُس کو وہ معرفت حاص ہو ۔ اُس کو وہ معرفت حاصل ہوگی کہ جو جمیع عالم کی حقیقت دریافت کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے پس یہ طریق نہایت قریب اور آسان ہے کہ انسان اپنے نفس کی شناخت کی کوشش کرے۔ اُسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام میں ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَهَا وَالنَّهَارِ إِذَا جَلْهَا وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشُهَا وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنُهَا وَالْأَرْضِ وَمَا طَحُهَا وَنَفْسٍ وَمَا سَوهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْونَهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ رَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسھا ہے سو خدا نے شمس اور قمر اور دن اور رات اور آسمان اور زمین کی خوبیاں بیان فرما کر پھر بعد اس کے وَنَفْسٍ وَ مَا سَو تھا فرمایا ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ نفس انسانی میں وہ سب استعدادات موجود ہیں کہ جو متفرق طور پر عالم کے جمیع اجزا میں پائے جاتے ہیں۔ در اگر خواهی که یکی در نفس خود بنگر بینی تمامی وضع عالم را وضعش تماشا کن ہمہ پھر بعد اُس کے فرمایا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا یعنی وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کا کیا نجات پا گیا۔ سو نجات سے حصول معرفتِ تامہ مراد ہے کیونکہ تمام عذاب اور ہر ایک قسم کی عقوبات جہل اور ضلالت پر ہی ا ( الف ) كشف الخفاء للعجلوني ۲/۳۶۵ ( ب ) الدرر المنتشره في الاحاديث المشتهره للسيوطي صفحه ۱۵۲ الذاريات : ۲۲ - الشمس : اتا ۱۰