مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 576
مکتوبات احمد ۵۷۶ جلد اول ترقی دینا چاہتا ہے اس کی زندگی میں خود ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسے موقعے نکلتے آتے ہیں جن سے اُس کو سوال کرنے کا استحقاق پیدا ہو جاتا ہے ۔ قرآن شریف جو جامع تمام معارف اور حقائق ہے عبث طور پر نازل نہیں ہوا بلکہ جب حاجت پیش آئی نازل ہوا ہے اور ہر ایک آیت محکمہ اپنی ایک ضروری شان نزول رکھتی ہے۔ والسلام بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجه علی صاحب و دیگر صاحبان سلام برسد بتاریخ ۴ را کتوبر ۱۸۸۳ء مطابق ۲ رز والحجه ۱۳۰۰ھ مکتوب نمبر ۳۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ جن امور میں خلق اللہ کی بھلائی ہے، اُن کا دریافت کرنا مضائقہ نہیں ۔ صرف مجھے خوف تھا کہ تکلف نہ ہو کہ وہ اس راہ میں مذموم ہے اور مولوی گل حسن صاحب کا سوال خداوند کریم کی جناب میں کچھ سُوءِ ادب کی رائحہ رکھتا ہے۔ اس لئے اُس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ بندہ وفادار کور شد یا عدم رشد سے کیا مطلب ہے۔ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی رحمۃ اللہ نے کیا اچھا کہا ہے۔ من ایستاده ام اینک بخدمتت مشغول مرا ازیں چہ کہ خدمت قبول یا نہ قبول گر نباشد بدوست ره اور بردن شرط عشق است در طلب مردن اس راہ کا سالک وہ شخص ہوتا ہے کہ وصال اور بقا سے کچھ مطلب نہ رکھے اور اُن تمام واقعات اور مکاشفات سے کچھ سروکار نہ ہو کہ جو سالکوں پر کھلتے ہیں ۔ کرامات اور خوارق عادت کا خواہاں نہ ہو اور مقامات واصلین کا جو یاں نہ ہو اور با ایں ہمہ سعی اور مجاہدہ میں ہمت نہ ہارے اور خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے فی الواقع ایک ذلیل بندہ اپنے تئیں خیال کرتا رہے اور اپنی زندگی کا اصل مقصد اسی راہ میں جان دینا ٹھہر اوے گو کچھ راہ پاوے یا نہ پاوے ۔ راستبازوں کا یہی راستہ ہے۔ ان کو اس سے کیا کام کہ حضرت احدیت سے اس بات کا پہلے تصفیہ کر لیویں کہ ہم کو آخر راہ ملے گا یا محض اخبار الحکم نمبر ۲۲ جلد ۳ - ۲۳ جون ۱۸۹۹ء