مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 571 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 571

مکتوبات احمد ۵۷۱ مکتوب نمبر ۲۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا آں مخدوم کا مکتوب محبت اسلوب پہنچ کر باعث مسرت ہوا۔ خداوند کریم آپ کی تائید میں رہے اور مکروہات زمانہ سے بچاوے۔ اس عاجز سے تعلق اور ارتباط کرنا کسی قدر را بتلا کو چاہتا ہے سو اس ابتلا سے آپ بچ نہیں سکتے ۔ گر بجنوں صحبتی خواهی به بینی زود تر خار ہائے دشت و تنہائی وطعن عالمے عَرَفْتُ رَبِّي بِرَبی لے صحیح المضمون ہے۔ اس بارے میں بہت سی احادیث آچکی ہیں ۔ خدا وند کریم نے پہلی ما سور سورۃ فاتحہ میں یہ یہ تعلیم تعلیم دی دی ہے ہے۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اس جگہ عبادت سے مراد پرستش اور معرفت دونوں ہیں اور دونوں میں بندہ کا عجز ظاہر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح دوسری جگہ بھی حضرت خداوند کریم نے فرمایا ہے - اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ کے جب تک خدا کی معرفت کا خدا ہی وسیلہ نہ ہو تب تک وہ معرفت شرک کے رگ وریشہ سے خالی نہیں اور نہ کامل ہے بلکہ بجز تجلیات خاصہ حضرت احدیت کی معرفت خالصہ کاملہ کا حاصل ہونا ممکن ہی نہیں ۔ خدا کو شناخت کرنے کے لئے خدا ہی کا نور چاہئے ۔ پس حقیقت میں وہی عارف اور وہی معروف ہے اور نیز یہ بھی جاننا چاہئے کہ تجلیت الوہیت یکساں نہیں ۔ ہر یک شخص کے لئے تجلی ربی الگ الگ ہے اور جس قدر ربانی تجلتی ہے اسی قدر معرفت ہے۔ کوئی طرف وسیع اور کوئی تنقیص اور کوئی نہایت صافی اور کوئی اُس سے کم ہے۔ پس تجلی بہ حسب حیثیت ظروف ہے۔ ایک کی معرفت دوسرے کی نسبت حکم عدم معرفت کا پیدا کر سکتی ہے اور معارف غیر متناہی ہیں۔ کوئی کنارہ نہیں ۔اُس نا پیدا کنار دریا سے ہر یک شخص بقدر اپنے ظرف کے حصہ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا کے یعنی خدا نے آسمان سے پانی ( اپنا کلام ) اُتارا سو ہر یک نالی حسب قدرا اپنے بہہ نکلی ۔ جس قدر پیاس ہے اسی قدر پانی ملتا ہے اور لا تفسير فيض القدير جلد ا ل النور: ۳۶ ۳ الانعام: ۱۰۴ الرعد: ۱۸