مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 572 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 572

مکتوبات احمد ۵۷۲ جلد اول آپ نے دعا کے بارے میں جو دریافت فرمایا ہے کہ جو اوّل سے ہی مقدر ہے دعا کیوں کی جاتی ہے۔ سواس میں تحقیق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر یک مقدر میں قانون قدیم یہی ہے کہ اگر چہ اس نے ہر امر کے بارے میں جو انسان کے مقسوم میں ہے اُس کا حاصل ہونا مقدر کر دیا۔ لیکن اُس کے حاصل کرنے کے طریق بھی ساتھ ہی رکھے ہیں اور یہ قانونِ الہی تمام اشیاء میں جاری اور ساری ہے جو شخص مثلاً پیاس بجھانا چاہتا ہے اس کو لازم پڑا ہوا ہے کہ پانی پیوے اور جو شخص روشنی کو ڈھونڈتا ہے اُس کے مناسب حال یہ ہے کہ آفتاب کے سامنے آوے اور اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھا نہ رہے ۔ اسی طرح دعا اور صدقات و خیرات و دیگر تمام اعمال صالح کو شرط حصول مرادات ٹھہرا رکھا ہے اور جیسے ابتدا سے کسی چیز کا حصول مقدر ہوتا ہے ساتھ ہی اُس کے یہ بھی مقدر ہوتا ہے کہ وہ دعا یا صدقہ وغیرہ بجالا وے گا تو وہ چیز اُس کو حاصل ہوگی ۔ پس جس شخص کا مطلب روز ازل میں دعا پر موقوف کر رکھا ہے ۔ سو اگر تقدیر مبرم اُس کے حق میں یہ ہے کہ اُس کا مطلب حاصل ہو جائے گا تو ساتھ ہی اُس کے حق میں یہ بھی تقدیر مبرم ہے کہ وہ دعا بھی ضرور کرے گا اور ممکن نہیں کہ وہ دعا سے رک جائے ۔ تقدیر ضرور ہی پوری ہو رہے گی اور بہر حال اُس کو دعا کرنی پڑے گی اور دعا میں ضرور نہیں کہ صرف زبان سے کرے بلکہ دعا دل کی اُس عاجزانہ التجا کا نام ہے کہ جب دل نہایت بے قرار اور مضطرب ہو کر رو بخدا ہو جاتا ہے اور جس بلا کو آپ دور نہیں کر سکتا ۔ اُس کا دور ہونا طاقت الوہیت سے چاہتا ہے۔ پس حقیقت میں دعا انسان کے لئے ایک طبعی امر ہے کہ جو اُس کی سرشت میں مخمر ہے۔ یہاں تک کہ شیر خوار بچہ بھی اپنی گرسنگی کی حالت میں گریہ وزاری سے اپنا ایسا انداز بنا لیتا ہے کہ جس کو عین میں دعا کی حالت کہنا چاہئے ۔ غرض بذریعہ دعا کے خدا سے مدد ڈھونڈ نا کوئی بناوٹ کی بات نہیں بلکہ یہ فطرتی امر ہے اور قوانین معینہ مقررہ میں سے ہے۔ جو شخص دعا کی توفیق دیا جاتا ہے اُس کے حق میں قبولیت اور استجابت بھی مقدر ہوتی ہے مگر یہ ضرور نہیں کہ اسی صورت میں استجابت ممکن ہو ۔ کیونکہ ممکن ہے کہ انسان کسی مطلوب کے مانگنے میں غلطی کرے جیسے بچہ کبھی سانپ کو پکڑنا چاہتا ہے اور والدہ مہربان جانتی ہے کہ سانپ کے پکڑنے میں اُس کی ہلاکت ہے ۔ پس وہ بجائے سانپ کے کوئی خوبصورت کھلونا اُس کو دے دیتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دعا کا مانگنا مقدرات از لیہ کے نقیض نہیں ہے بلکہ خود مقدرات از لیہ میں سے ہے اور اسی جہت سے انسان بالطبع نزول حوادث کے وقت دعا