مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 564 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 564

مکتوبات احمد ۵۶۴ جلد اول بھاری بوجھوں سے نکل سکتا ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔ پس اہل اللہ میں یہ بزرگی ہے کہ وہ توفیق یافتہ ہوتے ہیں اور دست غیبی اپنی خاص حمایت اور قوت سے اُن کو ان تمام بوجھوں کے نیچے سے نکال لیتا ہے۔ سو ان سے ایسا تو کل اور ایسا صبر اور ایسا سخا اور ایسا ایثار اور ایسا صدق اور اب ایسا رضا بقضاء صادر ہوتا ہے کہ دوسروں سے ہرگز ممکن نہیں ۔ کیونکہ در پردہ الہی ستاری ان کی مددگار ہوتی ہے اور وہ لغزشوں سے بچائے جاتے ہیں اور جس کی محبت میں وہ دنیا کو کھو بیٹھے ہیں اور دنیوی عزتوں اور ناموں سے بیزار ہو گئے ہیں ۔ وہی محبوب حقیقی اُن کا متولی ہو جاتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اہل حق مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت پاتے ہیں جو تائیدات خاصہ کی بشارتوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور نیز اُن میں وہ مراتب عالیہ اُن پر ظاہر کئے جاتے ہیں کہ جو اُن کو حضرت احدیت میں حاصل ہوئے ہیں اور یہ نعمت غیروں کو ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اس جگہ بتوجہ یاد رکھنا چاہئے کہ الہامات و مکالمات الہیہ کو جو ایسی پیشگوئی پر مشتمل ہوں جن میں شخص ملہم کی تائیدات عظیمہ کا وعدہ ہے ۔ وہ اہل اللہ کی شناخت کیلئے نہایت روشن علامات ہیں اور کوئی خارقِ عادت ان سے برابر نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا اپنے بندہ سے کلام کرنا اور پھر اُس کے کلام کا ایسی پیشگوئیوں پر مشتمل ہونا کہ جو تائیدات عظیمہ کے مواعید ہیں ۔ اور پھر ان مواعید کا اپنے وقتوں پر پورا ہونا معیت اللہ کا ایک روشن نشان ہے ۔ تیسری علامت یہ ہے کہ خواص اولیاء ریاضات شاقہ کے محتاج بھی نہیں ہوتے ۔ ایک قسم ولایت کی ہے جو وہ نبوت سے بہت مشابہ ہے ۔ اس قسم کے لوگ جب دنیا میں آتے ہیں تو ہوش پکڑتے ہی عنایات الہیہ اُن کی متوتی ہو جاتی ہے۔ اُن کو سالکوں کی پُر تکلف حالت سے کچھ مناسبت نہیں ہوتی ۔ اُن کو کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کب فنا آئی اور کب بقا حاصل ہوئی کیونکہ دست غیبی نے اُن کو فطرت میں ہی درست کر لیا ہوتا ہے اور بیضہ بشریت میں داخل بھی نہیں ہوتے ۔ تعلقات شدیدہ عشق الہی کے ان کی فطرت سے لگے ہوئے ہوتے ہیں اور ابتدائی فطرت سے کسی ریاضت کے محتاج نہیں ہوتے ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ اور ایسے لوگوں سے بغیر حاجت ریاضات شاقہ کے خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ شانِ نبوت اُن پر غالب ہے ۔ ا المائدة : ۵۵