مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 565
مکتوبات احمد ۵۶۵ جلد اول سوا گرا کا بر نقشبندیہ نے ظہور خوارق کیلئے ریاضات شاقہ کو شرط ٹھہرایا ہے تو ایسے مکمل لوگوں کو مستثنیٰ رکھ لیا ہوگا اور ایسے لوگ نہایت قلیل الوجود اور نادر الظہور ہیں۔ کبھی کبھی شدت حاجت کے وقت خلق اللہ کی بھلائی کے لئے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں اور اُن کا آنا لوگوں کیلئے ایک رحمت عظیم ہوتا ہے اور اُمتِ محمد یہ مرحومہ : یہ مرحومہ پر حضرت احدیت کی یہ رحمت ہے۔ کبھی کبھی آخر صدی پر اصلاح اور تجدید دین کیلئے اس شان کے لوگ مبعوث ہوتے ہیں اور دنیا اُن کے وجود سے نفع اٹھاتی ہے اور دین زندہ ہوتا ہے۔ اور یہ بات کہ ظہور خوارق ولایت کے لئے شرط ہے یا نہیں؟ اکثر صوفیوں کا اتفاق اسی پر ہے کہ شرط نہیں ۔ ط ہیں ۔ پر اس عاجز کے نزدیک ولایت تامہ کاملہ - تامہ کاملہ کے لئے ظہور خوارق شرط ہے۔ ولایت کی حقیقت قرب اور معرفت الہی ہے۔ سو جو شخص صرف منقولی یا معقولی طور پر خدا پر ایمان لاتا ہے اور اور وہ وہ کشوف عالیہ اور زوال حجب اس کو نصیب نہیں ہوا جس سے ایمان اُس کا تقلید سے تحقیق کے ساتھ مبدل ہو جاتا ۔ تو کیونکر کہا جائے کہ اُس کو ولایت تامہ نصیب ہو گئی ہے۔ بعض بزرگوں نے جیسے حضرت مجد دالف ثانی صاحب نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ یقین کے لئے معجزات نبویہ کافی ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ کافی نہیں کیونکہ وہ معجزات اب اس شخص کے حق میں کہ جو صد ہا سال بعد میں پیدا ہوا ہے منقولات کا حکم رکھتے ہیں اور دید اور شنید میں جس قدر فرق ہے۔ ظاہر ہے علماء محد ثین سے زیادہ تر اور کون معجزات سے واقف ہوگا ۔ مگر وہ معجزات کہ جن کی رویت سے ہزار ہا صحابہ یقین کامل تک پہنچ گئے تھے ۔ اب ان کے ذریعہ سے علماء ظاہر کو اس قدراثر بھی نصیب نہیں ہوا کہ اور نہیں تو اُن معجزات کی ہیت سے اخراج نفسانیت ہی ہو ۔ مگر یہ بھی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ سماوی نشانوں کو از دیا دایمان میں دخل عظیم ہے اور خود ولایت تامہ کی حقیقت جب کہ قرب تام ہے تو پھر ظاہر ہے کہ قرب اور مشاہدہ عجائبات لازم و ملزوم ہیں ۔ جو شخص ہمارے مکان پر آتا ہے اُسے ضرور ہے کہ مکان کی وضع اور اس کی کیفیت کمیت سے اطلاع پیدا کرے ۔ لیکن اگر بعد از وصول بھی ایسا ہے جو قبل از وصول تھا تو گویا اُس نے مکان کو دیکھا ہی نہیں ۔ انبیاء کے یقین کو بھی خدا نے نشانوں سے ہی بڑھایا ہے اور قرآن شریف میں رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى حضرت ابراہیم کا سوال بھی موجود ہے ۔ پھر کیونکر کہا جائے کہ ولایت بغیر خوارق کے حاصل ہو سکتی ہے ۔ بلا شبہ جس البقرة: ٢٦١