مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 563 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 563

مکتوبات احمد ۵۶۳ جلد اول بھی نظر آ گیا۔ اور عام طور پر باستثناء خواص اہل اللہ وا کا بر اولیا کی حقیقت ولایت کہ جو قرب الہی کا نام ہے بجزر حضرت احدیت کے کسی کو اس پر اطلاع نہیں ہو سکتی ہے۔ ہاں اس حقیقت کے انوار و آثار جیسے استقامت ، صبر ، رضا ، جو دوسخا ، صدق ، وفا ، شجاعت ، حیا اور نیز خوارق و دیگر علامات قبولیت لوگوں پر ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ مگر یہ سب آثار ولایت ہیں اور حقیقت ولایت ایک مخفی امر ہے ۔ جس پر غیر اللہ کو ہرگز اطلاع نہیں وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب ۔ اور جو آپ نے دریافت کیا ہے کہ خوارق و کرامات ریاضات شاقہ کا نتیجہ ہے یا کیا حال ہے؟ اس میں تحقیق یہ ہے کہ بلا شبہ ریاضات شاقہ کو کشوف وغیرہ خوارق میں دخل عظیم ہے بلکہ اس میں کسی خاص مذہب بلکہ تو حید کی بھی شرط نہیں اور اسی جہت سے فلاسفہ یونان اور اس ملک ہند کے جوگی اپنے تیوں جپوں کے ذریعہ سے صفائی نفس حاصل کرتے رہے ہیں اور اُن کا قلب اپنے معبودات باطلہ پر جاری ہوتا رہا ہے اور مکاشفات بھی اُن سے ظہور میں آتے رہے ہیں ۔ چنانچہ کسی تاریخ دان اور صاحب تجربہ پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا ۔ اب بے خبر کو بڑی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ جب کشوف و خوارق باطل پرستوں اور استدراج دانوں سے بھی ہو سکتے ہیں ۔ تو پھر اُن میں اور اہلِ حق میں کیا فرق باقی رہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت احدیت کے برگزیدہ بندے تین علامات خاصہ سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ علامتیں ایسی ہیں کہ گویا باطل پرست لوگ اپنی کجروی کی محنتوں سے گداز بھی ہو جائیں تب بھی وہ علامات ان میں متحقق نہیں ہو سکتیں ۔ چنانچہ ۔ اوّل ان میں سے ایک یہ ہے کہ اہل حق کو صرف کشفی صفائی نہیں ۔ اخلاقی صفائی بھی عطا ہوتی ہے اور وہ اخلاق فاضلہ میں اس قدر پا یہ عالیہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ جیسے خدا کو اپنے اخلاق پیارے ہیں ۔ ویسا ہی وہ ربّانی اخلاق اُن کو پیارے ہو جاتے ہیں اور اُن کی سرشت میں ربوبیت کی تجلیات گھر کر جاتی ہیں اور بشریت کی آلودگیاں اور تنگیاں اُٹھ جاتی ہیں ۔ پس اُن سے نیک اور پاک خُلق ایسے عجیب اور خارق العادت کے طور پر صادر ہوتے ہیں کہ بشری طاقتوں سے بجز خاص تائید الہی کے اُن کا صادر ہونا ممکن نہیں ۔ انسان بشریت کے تعلقات اور نفس امارہ کی زنجیروں میں اور ننگ و ناموس کی قیدوں میں اور خانہ داری کے جانگداز فکروں میں اور شدائد اور آلام کے حملوں میں اور وساوس اور اوہام کی نیش زنیوں میں سخت عاجز ہو رہا ہے اور اگر دعویٰ کرے کہ میں اپنی ہی قوت سے ان