مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 562
مکتوبات احمد ۵۶۲ مکتوب نمبر ۲۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا ۔ حدیث نبوی يَعْرِفُهُمْ غَيْرِی کے معنی جو اس عاجز کے دل میں ڈالے گئے ہیں یہ ہیں کہ غیر کے لفظ سے نفی ماسوا اللہ مراد نہیں بلکہ نفی نا اہل و نا آشنا مراد ہے ۔ مگر جو لوگ مومن حقیقی ہیں وہ بباعث استعداد فنا اور زوال حجب کے کبریائی وامن کے اندر داخل ہیں اور غیر نہیں ہیں۔ خود خدا تعالیٰ نے بعض صالح اہل کتاب کے حق میں اپنی کتاب مجید میں فرمایا ہے يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ لا یعنی وہ لوگ پیغمبر آخر الزمان کو جو امام الانبیاء اور سید الاولیا ہے اس طرح پر شناخت کرتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو شناخت کر رہے ہیں اور اسی طرح روحانی روشنی کی برکت سے اولیا اولیا کو شناخت کر لیتے ہیں ۔ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اولیس کے وجود کو یمن میں شناخت کر لیا اور بارہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یمن کی طرف سے رحمان کی خوشبو آ رہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے مراتب معلوم تھے اور ہر ایک کی نورانیت باطنی کا اندازہ اس قلب منور پر مکشوف تھا۔ ہاں جو لوگ بیگا نہ ہیں وہ یگانہ حضرت احدیت کو شناخت نہیں کر سکتے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ کے یعنی وہ تیری طرف (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) نظر اُٹھا کر دیکھتے ہیں پر تو اُنہیں نظر نہیں آتا اور وہ تیری صورت کو دیکھ نہیں سکتے ۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انوار روحانی کا سخت چمکا را بیگانہ محض پر بھی جا پڑتا ہے ۔ جیسے ایک عیسائی نے جب کہ مباہلہ کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حسنین و حضرت علی و فاطمہ رضی الله عنهم عیسائیوں کے سامنے آئے ۔ دیکھ کر اپنے بھائیوں کو کہا کہ مباہلہ مت کرو۔ مجھ کو پروردگار کی قسم ہے کہ میں ایسے منہ دیکھ رہا ہوں کہ اگر اس پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ جا تو فی الفور اُٹھ جائے گا۔ سو خدا جانے کہ اس وقت نور نبوت و ولایت کیسا جلال میں تھا۔ کہ اس کا فر ، بد باطن ، سیہ دل کو ا البقرة: ۲۱۴۷ الاعراف: ۱۹۹