مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 561 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 561

مکتوبات احمد ۵۶۱ جلد اول تیسری شرط مورد معارف الہیہ ہونے کے لئے یہ ہے کہ رضا بقضاء ہو اور ایسا انشراح صدر میسر آ جائے کہ جو کچھ ارادات الہیہ سالک پر نافذ ہوں ۔ عاشق صادق کی طرح ان سے متلد ذ ہو اور انقباض پیدا نہ ہو بلکہ یہاں تک موافقت تامہ پیدا ہو جائے کہ اُس محبوب حقیقی کی مراد اپنی ہی مراد معلوم ہو۔ اور اس کی خواہش اپنی خواہش دکھلائی دے۔ اس جگہ بھی وہی سوال لزوم دور کا لازم آتا ہے جو پہلی قسم میں لازم آیا تھا اور جواب بھی وہی ہے جو پہلے دیا گیا ہے۔ انسان کا کام بحجر صحبت صادقین کے سراسر خام ہے اور ۔ رخام ہے اور بجز طریق فنا به فنا یا صحبت فانیوں کے ایمان کا سلامت لے جانا نہایت مشکل ہے۔ پس سعید وہی ہے کہ جو سب سے پہلے ایمان کی سلامتی کا فکر کرے اور ناحق کے ظاہری جھگڑوں اور بے فائدہ خرخشوں سے دست کش ہو کر اس جماعت کی رفاقت اختیار کرے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنا در د عطا کیا ہے۔ اور یقینا سمجھے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو عمدہ نعمت دنیا کیلئے لائے وہ یہی درد اور محبت الہی ہے جس کو خدا اور رسول کی محبت دی گئی ۔ اس نے اپنی اصل مراد کو پا لیا ہے اور ہلا شبہ وہ سعید ہے اور نار جہنم کو اس سے مس کرنا حرام ہے لیکن جس کو وہ محبت عطا نہ ہوئی اور اُس نے اپنے خدا اور اپنے نبی کا قدر شناخت نہیں کیا ۔ اُس کا زبانی طور پر مسلمان کہلا نا کچھ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ نماز وروزہ بھی بجز ذاتی محبت کے اپنی اصل حقیقت سے خالی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے۔ يَأْتِي عَلَى أُمَّتِي زَمَانٌ يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيَجْتَمِعُونَ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَيْسَ فِيهِمْ مُسْلِمٌ - یعنی ایک زمانہ وہ آئے گا کہ لوگ نمازیں بھی پڑھیں گے اور روزے بھی رکھیں گے اور مسجدوں میں اکٹھے بھی ہوں گے پر اُن میں سے ایک بھی مسلم نہ ہوگا ۔ یعنی مومن حقیقی نہ ہوگا ۔ اپنی دنیا اور اپنی رسوم میں گرفتار ہوں گے اور دین بھی رسم کے طور پر بجالائیں گے ۔ سو اب ایسے وقت کا اندیشہ ہے ۔ خداوند کریم رحم کرے ۔ بخدمت مولوی صاحب و خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچا دیں اگر ملاقات میسر ہو کہ ☆ - تاریخ ۶ رستمبر ۱۸۸۳ ء مطابق ۳ /ذیقعد ۱۳۰۰ھ الحکم ۲۲ نومبر ۱۸۹۸ء صفحه ۳ ☆ ☆