مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 541
مکتوبات احمد ۵۴۱ جلد اول جاتی ہیں اور پھر وہ لکھتے ہیں کہ لفظ اُوم کہ جو پہلے زمانہ کے مذہب ہنود کی نشانی ہے اُس کا وید میں بالکل ذکر نہیں ہے بلکہ یہ لفظ ان تینوں دیوتاؤں کے نام کا خلاصہ ہے۔ یعنی بر ہما کے اخیر کا الف لیا گیا اور وشن کی واؤ لی گئی اور مہادیو کا میم لیا گیا ۔ ان تینوں کے جوڑ سے اُوم بن گیا اور تمام پنڈتوں کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ اوم کا لفظ بر ہما، وشن ، مہادیو کے نام سے ایک ایک حرف لے کر بنایا گیا ہے اور پنڈت دیا نند کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ اوم کا لفظ تر ہمورتی مذہب کا ایجاد ہے ۔ مگر تر ہمورتی مذہب یعنی جس میں تین مورتوں کی پرستش کا ذکر ہے وید میں نہیں ہے کیونکہ یوں تو وید میں بیسیوں دیوتاؤں کی پرستش کا ذکر ہے لیکن بر ہما، وشن ، مہادیو کا کہیں نشان نہیں ۔ ہاں وشن کی پرستش کے لئے ایک شرقی آئی ہے مگر وہاں وشن کے معنی سورج ہیں ۔ سورج وید کے دیوتاؤں میں سے ایک اوسط درجہ کا دیوتا ہے جس کا مرتبہ اگنی دیوتا سے کچھ نیچا اور بعض دوسرے دیوتاؤں سے کچھ اونچا ہے۔ اب دیکھئے منشی صاحب اپنے خط میں فرماتے ہیں کہ ہندوؤں میں وجو دحق کے لئے اُوم کا لفظ جو اسم ذات ہے قرار دیا گیا ہے۔ کیا افسوس کا مقام ہے کہ منشی صاحب نے ایک ناواقف آدمی کی تحریر فضول پر اعتماد کلی کر کے اُوم کے لفظ کو اسم ذات مقرر کر دیا ۔ حالانکہ ابھی ہم ظاہر کر چکے ۔ کہ اوم کا لفظ ان متأخر مشرکین ہنود کا ایجاد ہے جنہوں نے برہما ، وشن ، مہادیو کی صورتوں کی پرستش اختیار کی تھی اور اب کرتے ہیں ۔ ان کے دانشمند پنڈتوں میں سے کوئی بھی اس بات سے نا واقف نہیں کہ اوم نا کا لفظ اسی تر ہمورتی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختراع کیا گیا ہے۔ خدا سے اور خدا کی ذات سے اس کو کچھ علاقہ نہیں ۔ ۔ بھلا اگر اگر منشی صاحب کے نزدیک یہ اسم ذات ہی ہے تو پھر کئی پنڈت جیسے دیانند، کھڑک سنگھ کے پنڈت شاستری صاحب وغیرہ جواب تک جیتے جاگتے موجود ہیں ۔ اُن کی شہادت اپنے بیان پر پیش کریں ۔ واضح رہے کہ ہندوؤں میں دو قسم کے مخلوق پرست ہیں ۔ ایک تو وہ جو صرف وید کے دیوتاؤں کو مانتے ہیں اور یہ فرقہ بہت کم پایا جاتا ہے اور دوسرے وہ گروہ جنہوں نے تر ہمورتی کا مذہب ہزاروں برس کے بعد وید کے نکالا ہے ۔ وہ برہما ، وشن ، مہادیو کو مانتے ہیں اور اوم کے لفظ کو بڑا مقدس سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ وہ ان کے دیوتاؤں کے ناموں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بہر حال ہماری بحث صرف وید سے متعلق ہے اور ہر چند ہم جانتے ہیں کہ اپنشدوں میں بہت سی لے مر گئے ہے عیسائی ہو گئے تھے