مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 540 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 540

مکتوبات احمد ۵۴۰ جلد اول ا وید صاحب موصوف نے بعد بہت سی تحقیق کے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اپنشدیں جو دید کے ساتھ شامل ہیں ۔ وید میں سے نہیں ہیں بلکہ وید کے تصنیف کے بہت مدت کے بعد تالیف پائے ہیں اور یہ رائے محقق پنڈتوں کی ہے کہ اُپنشدیں وید میں سے نہیں ہیں۔ یہ برہمن پشتک ہیں جو انسانوں نے یعنی برہمنوں نے اور اور وقتوں میں اپنے خیال سے لکھے ہیں ۔ یہاں تک کہ پنڈت دیا نند نے بھی اپنے وید بھاش میں جو ان دنوں میں چھپ رہا ہے اور ایک پرچہ اُس کا قادیان میں بھی ایک آریہ کے نام آتا ہے یہی رائے لکھی ہے اور پنڈت دیانند علانیہ لکھتا ہے کہ اُپنشدیں ہرگز وید میں داخل نہیں اور نہ وید کی جز ہے۔ وہ تو لوگوں نے پیچھے سے باتیں بنائی ہیں ۔ چونکہ پنڈت دیا ننداب تک مقام شاہ پور ضلع ارل میں زندہ موجود ہے اور آج پنڈتوں میں وہ دعویدار ہے کہ میرا ثانی اور کوئی پنڈت نہیں ۔ اُسی سے منشی صاحب دریافت کر سکتے ہیں کہ اُپنشدیں جن کا بطور مختصر ترجمہ دارا شکوہ نے کیا یہ حقیقت میں و ہی ہیں؟ یہ کیا چیز ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ دارا شکوہ کے وقت میں وید ایک مدفون اور مخفی چیز کی طرح تھا اور مسلمانوں کو اُس کی حقیقت کی خبر نہیں تھی ۔ سو جب دارا شکوہ نے ہندو پنڈتوں سے کچھ وید کا ترجمہ چاہا تو انہوں نے اندیشہ کیا۔ کہ اگر ہم مسلمانوں پر اصل وید کی حقیقت ظاہر کریں گے تو ہمارا پردہ اُڑ جائے گا ۔ بہتر ہے کہ اکبر بادشاہ کی طرح اُس کو بھی دام میں لاویں اور جہاں تک ہو سکے اس کے مزاج میں بھی کچھ الحاد ڈالیں تو اُنہوں نے اُس کو نا واقف سمجھ کر بعض اُپنشدوں کا ترجمہ کرا دیا اور اب کھل گیا کہ وہ ترجمہ بھی صحیح نہیں ۔ بہر حال دارا شکوہ نے کمال غلطی کھائی کہ اُپنشدوں کو وید ۔ سمجھ بیٹھا اور اُس کے بہت سے خیالات پریشان تھے۔ جن کی منشی صاحب کو خبر نہیں ۔ چغتائی سلطنت پر کی ۔ پر پہلے آفت یہی نازل ہوئی تھی کہ اکبر اور اُس کی بعض بد نصیب نسل نے کلام الہی کو جیسا کہ چاہیے قدر نہیں کی تھی ۔ اور ہندوؤں کے شرک آمیز اور غلط گیان کی تلاش میں پڑ گئے ۔ اب ہم اس بات کو چھوڑ کر پروفیسر مذکور کی وید کی نسبت رائے لکھتے ہیں ۔ وہ اپنی تمہیدی تقریر میں جو وید کی تفسیر کے پہلے لکھی ہے تحریر کرتے ہیں کہ حقیقت میں وید کے کسی فقرہ سے جو ہم نے اب تک دیکھے ہیں یہ بات ظاہر نہیں ہوتی کہ وید کے مصنف پیدا کنندہ عالم کے معتقد تھے اور ہندوؤں کے پرستش کے دیوتاؤں کی جو وید میں لکھے ہیں ۔ جیسے آگ ، پانی ، چاند، سورج اُن کی تعریفوں کی عبارت ایسی ہے جس میں صریح مخلوق کی صفتیں پائی