مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 542 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 542

مکتوبات احمد ۵۴۲ جلد اول غلطیاں ہیں اور ہم نے اوّل سے آخر تک اُپنشدیں غور سے پڑھی ہیں اور اُن کے ذلیل اور غلط خیالات پر بفضل خداوند ہادی مطلق اطلاع پائی ہے لیکن ہم کو ان کتابوں کی تفتیش سے کچھ بھی غرض نہیں ۔ جس حالت میں خود ہندوؤں کے محققین اُن اُپنشدوں کو برہمن پشتک جانتے ہیں تو پھر ہم کو کیا ضرور ہے کہ ان میں کچھ زیادہ طول کلام کریں ۔ رہا وید سوان میں جس قدر مخلوق پرستی ہے اُس کو تمام جاننے والے جانتے ہیں۔ پہلا ویدا گنی کی ہی تعریف سے شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ ستاتیں منتر تو اُس کی تعریف میں لکھے گئے ہیں اور پینتالیس منتر اندر کے مہا برنن میں ہیں ۔ ایسا ہی ہوا اور پانی اور چاند اور سورج وغیرہ کی تعریف میں کئی منتر وید میں مندرج ہیں اور اگر منشی صاحب بطور نمونہ چاہیں تو ہم رگوید سنگتبا اشک اول پہلا اد ہیائے اشلوک ایک میں سے چند شرتیاں لکھ دیتے ہیں تا منشی صاحب اپنے اُس کلمہ کو پھر یاد کریں کہ جو اُنہوں نے قرآن شریف کی عظمتوں اور بزرگیوں اور ہمارے رب کریم کے پاک اور کامل کلام کی شوکتوں اور شانوں کو یکبارگی نظر انداز کر کے جلد تر منہ سے نکال دیا اور کہا کہ وید میں بیان توحید ایسا ہے کہ اور کتابوں میں نہیں ہے اور میں قبل از بیان یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ سخت ابتلا منشی صاحب کو ایسی عادت کی وجہ سے پیش آ گیا ہے کہ جو اپنے خط میں آپ لکھتے ہیں کہ میں مذہبی جھگڑوں سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ۔ گو یا منشی صاحب اس کام کو بنظر تحقیر دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ سارا قرآن شریف مذہبی جھگڑوں کے ہی ذکر میں ہے اور جو لوگ خدا کے بڑے پیارے ٹھہرے اُنہوں نے انہیں جھگڑوں میں جانیں دی تھیں ۔ جب تک طالب حق ان جھگڑوں نے ۔ ں جوڑوں میں جاتیں دی تھیں ۔ جب تک طا میں نہ پڑے دل کا صاف ہونا ہرگز ممکن نہیں۔ علم عقائد اورعلم فقہ اور علم تفسیر اورعلم حدیث مذہبی جھگڑے ہیں جو شخص مذہبی جھگڑوں میں سے نفرت کر کے علم قرآن حاصل نہیں کرتا اور حق اور باطل میں تمیز کرنے کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا وہ بڑی خطرناک حالت میں ہے اور اُس کے سُوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے۔ اب وہ شرتیاں جن کا وعدہ کیا گیا تھا یہ ہیں ۔ (1) میں اگنی دیوتا کی ، جو ہوم کا بڑا گر و کارکن اور دیوتاؤں کو نذریں پہنچانے والا اور بڑا ثروت والا ہے ، مہما کرتا ہوں ۔ اب اس جگہ اگنی کو ایک ایسا دیوتا مقرر کیا کہ جو بطور وکیل کے دوسرے دیوتاؤں کو نذریں پہنچاتا ہے۔