مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 515 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 515

مکتوبات احمد ۵۱۵ مکتوب نمبرے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا آپ کا خط جو آپ نے لود بیانہ سے لکھا تھا، پہنچ گیا۔ جس کے مطالعہ سے بہت خوشی حاصل ہوئی ۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ جس روز آپ کا خط آیا اُسی روز بعض عبارتیں آپ کے خط کی کسی قدر کمی بیشی سے بصورت کشفی ظاہر کی گئیں اور وہ فقرات زیادہ آپ کے دل میں ہوں گے۔ یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک رابطہ بخشی ہے۔ خداوند کریم اس رابطہ کو زیادہ کرے۔ آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمایا تھا کہ ایک برہمو صاحب ملے جن کا یہ بیان تھا کہ گویا اس عاجز نے اُن کی اصلیت کو سمجھا نہیں ۔ یہ بیان سراسر بناوٹ ہے ۔ برہمو سماج والوں کے عقائد کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ الہام اور وحی سے منکر ہیں اور خدا کے پیغمبروں کو نَعُوذُ بِاللهِ مفتری اور کذاب سمجھتے ہیں اور خدا کی کتابوں کو اختراع انسان کا خیال کرتے ہیں ۔ وہ الہام اور وحی کے ہرگز قائل نہیں ہیں اور اپنی اصطلاح میں الہام اور وحی ان خیالات کا نام رکھتے ہیں کہ جو عادتی طور پر انسان کے دل میں گزرا کرتے ہیں ۔ جیسے کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر رحم آنا یا کوئی بُرا کام کر کے پچھتانا کہ ایسا کیوں کیا۔ یہ اُن کے نزدیک الہام ہے۔ مگر وہ الہام اور وحی جو خداوند کریم کے فرشتے کسی انسان سے کلام کریں اور حضرت احدیت کسی سے مخاطبت کریں۔ اس پاک الہام سے وہ قطعاً منکر ہیں اور اپنے رسائل اور تصانیف میں ہمیشہ انکار کرتے رہتے ہیں ۔ مگر اب وقت آ پہنچا ہے کہ خدا اُن کو اور اُن کے دوسرے بھائیوں کو ذلیل اور رسوا کرے۔ مجھے یاد ہے کہ پنڈی ت شیو شیو نارائن نارائن نے جو برہمو سماج کا کا ا ایک منتخب معلم ہے لاہور سے میری طرف ایک خط لکھا کہ میں حصہ سوم کا رڈ لکھنا چاہتا ہوں ۔ ابھی وہ خط اس جگہ نہیں پہنچا تھا کہ خدا نے بطور مکاشفات مضمون اس خط کا ظاہر کر دیا۔ چنانچہ کئی ہندوؤں کو بتلایا گیا اور شام کو ایک ہندو کو ہی جو آریہ ہے ڈاکخانہ میں بھیجا گیا تا گواہ رہے ۔ وہی ہندو اس خط کو ڈاکخانہ سے لایا۔ پھر میں نے پنڈت شیو نارائن کو لکھا کہ جس الہام کا تم رڈ لکھنا چاہتے ہو خدا نے اُسی کے ذریعہ اب یہ شخص منکرِ خدا ہے ۔ (مرتب)