مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 516
مکتوبات احمد ۵۱۶ جلد اول سے تمہارے خط کی اطلاع دی اور اُس کے مضمون سے مطلع کیا ۔ اگر تم کو شک ہے تو خود قادیان میں آ کر اُس کی تصدیق کر لو کیونکہ تمہارے ہندو بھائی اس کے گواہ ہیں ۔ رڈ لکھنے میں بہت سی تکلیف ہوگی اور اس طرح جلدی فیصلہ ہو جائے گا۔ میں نے یہ بھی لکھا کہ اگر تم صدق دل سے بحث کرتے ہو تو تمہیں اس جگہ ضرور آنا چاہئے کہ اس جگہ خود اپنے بھائیوں کی شہادت سے حق الامر تم پر کھا جائے گا۔ لیکن باوجود ان سب تاکیدوں کے پنڈت صاحب نے کچھ جواب نہ لکھا اور اس بارے میں دم بھی نہ مارا اور وہ الہام پورا ہوا جو حصہ سوم میں چھپ چکا ہے سَنُلْقِي فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ اب دیکھئے ۔ اس سے زیادہ اور کیا صفائی ہو گی کہ خدا وند کریم مخالفین کو نہ صرف شنیدہ پر رکھنا چاہتا ہے بلکہ دیدہ کے مرتبہ پر پہنچانا چاہتا ہے۔ گل صوابی ضلع پشاور سے اس جگہ کے آریہ سماج کے نام صوابی آریہ سماج نے ایک خط بھیجا ہے کہ حصہ سوم براہین احمدیہ میں تمہاری شہادتیں درج ہیں ۔ اس کی اصلیت کیا ہے۔ سو اگر چہ ہندو لوگ اسلام کے سخت مخالف ہیں مگر ممکن نہیں کہ سچ کو چھپا سکیں ۔ اس لئے فکر میں ہوئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کو کیا لکھیں۔ اگر شرارت سے جھوٹ لکھیں گے تو اس میں روسیاہی ہے اور آخر پردہ فاش ہو گا اور سچ لکھنے میں مصلحت اپنے مذہب کی نہیں دیکھتے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ کیونکر پیچھا چھڑاتے ہیں ۔ شاید جواب سے خاموش رہیں ۔ یہ اسرار جو خدا وند کریم اس عاجز کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے۔ عام طور پر اُس کی عادت نہیں تھی جو ان کے اظہار کی اجازت دے بلکہ اَسْرَارِ رَبَّانی کے ظاہر کرنے میں اندیشہ سَلْبِ وَلَایت ہے لیکن اس زمانہ میں ان باتوں کا ظاہر کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ گو دوسرے لوگ اپنی نانہی سے اس اظہار کو ریا کاری میں داخل کریں یا کچھ اور سمجھیں مگر یہ عاجز اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کیا کہیں گے اور خدا وند کریم نے اس عاجز کو عام فقرا کے برخلاف طریقہ بخشا ہے جس میں ظاہر کرنا بعض اسرار ربانی کا عین فرض ہے ۔ وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَى إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - (۳ مارچ ۱۸۸۳ء مطابق ۲۲ ربیع الثانی ۱۳۰۰ھ ) ا تذکرہ صفحہ ۳۸ ۔ ایڈیشن چہارم