مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 451 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 451

مکتوبات احمد ۴۵۱ جلد اول اور آپ نے اس پر دستخط کر دیئے اور راقم سراج الحق نعمانی و جمالی سرسا وی لکھا گیا ۔ مجھے یہ خط مولوی رشید احمد صاحب کو لکھنا اس واسطے ضروری ہوا تھا کہ میں اور مولوی صاحب ہمزلف ہیں اور باوجود اس رشتہ ہمزلف ہونے کے تعارف اور ملاقات بھی تھی اور قصبہ سر ساوہ اور قصبہ گنگوہ ضلع سہارنپور میں ہیں اور ان دونوں قصبوں میں پندرہ کوس کا فاصلہ ہے اور ویسے برادرانہ تعلق بھی ہیں اور میری خوشدامن اور سسرال کے لوگ ان سے بعض مرید بھی ہیں ۔ بس یہ میرا خط مولوی صاحب کے پاس گنگوہ جانا تھا اور مولوی صاحب اور ان کے معتقدین اور شاگردوں میں ایک شور برپا ہونا تھا اور لوگوں کو ٹال دینا تو آسان تھا ۔ لیکن اس خاکسار کو کیسے ٹالتے اور کیا بات بتاتے بجز اس کے کہ مباحثہ کو قبول کرتے ۔ مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ مخدوم مکرم پیر سراج الحق صاحب ! پہلے میں اس بات کا افسوس کرتا ہوں کہ تم مرزا کے پاس کہاں پھنس گئے ۔ تمہارے خاندان گھرانے میں کس چیز کی کمی تھی اور میں بحث کو مرزا سے منظور کرتا ہوں لیکن تقریری اور صرف زبانی۔ تحریر مجھ کو ہر گز منظور نہیں اور عام جلسہ میں بحث ہو گی اور وفات وحیات مسیح میں کہ یہ فرع ہے، بحث نہیں ہو گی بلکہ بحث نزول مسیح میں ہوگی جو اصل ہے ۔ کتبہ رشید احمد گنگوہی ۔ یہ خط مولوی صاحب کا حضرت اقدس علیہ السلام کو دکھلایا۔ فرمایا خیر شکر ہے کہ اتنا تو تمہارے لکھنے سے اقرار کیا کہ مباحثہ کے لئے تیار ہوں، گو تقریر سہی ورنہ اتنا بھی کہیں کرتے تھے؟ اب اس جواب میں یہ لکھ دو کہ مباحثہ میں خلط مبحث کرنا درست نہیں ، بحث تحریری ہونی چاہئے تا کہ غائبین کو بھی سوائے حاضرین کے پورا پورا حال معلوم ہو جائے اور تحریر میں خلط مبحث نہیں ہوتا اور زبانی تقریر میں ہو جاتا ہے۔ تقریر کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور نہ اس کا اثر کسی پر پڑتا ہے اور نہ پورے طور سے یاد رہ سکتی ہے اور تقریر میں ایسا ہونا ممکن ہے کہ ایک بات کہہ کر اور زبان سے نکال کر پھر جانے اور مکر جانے کا موقع مل سکتا ہے اور بعد بحث کے کوئی ر فیصلہ نہیں ہو سکتا اور ہر ایک کے معتقد کچھ کا کچھ بنا لیتے ہیں کہ جس سے حق و باطل میں التباس ہو جاتا ہے اور تحریر میں یہ فائدہ ہے کہ اس میں کسی کو کمی بیشی کرنے یا غلط بات مشہور کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے اور آپ جو فرماتے ہیں کہ مباحثہ اصل میں نزول مسیح پر ہونا چاہئے ۔ سواس