مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 452
مکتوبات احمد ۴۵۲ جلد اول میں یہ التماس ہے کہ نزولِ مسیح اصل کیوں کر ہے؟ اور وفات وحیات مسیح فرع کس طرح سے ہوئی ؟ اصل مسئلہ تو وفات مسیح ہے۔ اگر حیات مسیح کی ثابت ہوگئی تو نزول بھی ثابت ہو گیا اور جو وفات ظاہر ہو گئی تو نزول خود بخود باطل ہو گیا ۔ جب ایک عہدہ خالی ہو تو اس عہدہ پر مامور ہو۔ ہمارے دعوے کی بنا ہی وفات مسیح پر ہے ۔ اگر مسیح کی زندگی ثابت ہو جاوے تو ہمارے دعوے میں کلام کرنا فضول ہے۔ مہربانی فرما کر آپ سوچیں اور مباحثہ کیلئے تیار ہو جاویں کہ بہت لوگوں اور نیز مولویوں کی آپ کی طرف نظر لگ رہی ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے اس پر دستخط کر دیئے اور میں نے اپنے نام سے یہ خط مولوی صاحب کے پاس گنگوہ بھیج دیا۔ مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں یہ لکھا کہ افسوس ہے مرزا صاحب اصل کو فرع اور فرع کو اصل قرار دیتے ہیں اور مباحثہ بجائے تقریری کے تحریری مباحثہ میں نہیں کرتا ۔ اور ہمیں کیا غرض ہے کہ ہم اس مباحثہ میں پڑیں ۔ یہ خط بھی میں نے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو سنا دیا۔ آپ نے یہ فرمایا کہ ہمیں افسوس کرنا چاہیے نہ مولوی صاحب کو ۔ کیونکہ ہم نے تو ان کے گھر یعنی عقائد میں ہاتھ مارا ہے اور ان کی جائیداد دبالی ہے یہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کو جن پر ان کی بڑی بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور ان کے آسمان سے اُترنے کی آرزو رکھتے تھے، مار ڈالا ہے ۔ جس کو وہ آسمان میں بٹھائے ہوئے تھے اس کو ہم نے زمین میں دفن کر دیا ہے اور ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور بقول ان مولویوں کے اسلام میں رخنہ ڈال دیا ہے اور لوگوں کو گھیر گھار کر اپنی طرف کر لیا ہے۔ جس کا نقصان ہوتا ہے وہی روتا ہے اور چلاتا ہے۔ یہ مولوی حامیان دین اور محافظ اسلام کہلا کر اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی ان کی جائیداد دبالے اور مکان اور اسباب پر قبضہ کر لے تو یہ لوگ عدالت میں جا کھڑے ہوں اور لڑنے مرنے سے بھی نہ ہٹیں اور نہ ملیں جب تک کہ عدالت نہ فیصلہ کرے۔ اور آپ یہ بہانے بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا غرض ہے ۔ گویا یوں سمجھو کہ ان کو دین اسلام اور ایمان سے کچھ غرض نہ رہی اور اب یہ حیلہ اور بہانہ کرتے ہیں کہ ہمیں کیا غرض ہے؟ اگر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ان کے ہاتھ پلے کچھ نہیں ہے اور در حقیقت کچھ نہیں ہے۔ ان کے باطل اعتقاد کا خرمن جل کر راکھ ہو گیا۔ یہ اگر اس بحث میں پڑیں تو ان کی مولویت کو بٹہ لگتا ہے اور ان کے علم و فضل کو سیاہ دھبہ لگتا