مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 450

مکتوبات احمد لده۔ جلد اول متوفی کے پاس جا کر حضرت اقدس علیہ السلام کے الہامات جو براہین احمدیہ میں درج ہیں، سناتے تھے ۔ مولوی رشید احمد صاحب نے چند الہام سن کر جواب دیا تھا کہ الہام کا ہونا کیا بڑی بات ہے ۔ ایسے ایسے الہام تو ہمارے مریدوں کو بھی ہوتے ہیں ۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ آپ کے مریدوں کو اگر ایسے الہام ہوتے ہیں تو وہ الہام ہمارے سامنے پیش کرنے چاہئیں تاکہ ان الہاموں کا یا آپ کے الہاموں کا ، کیونکہ مریدوں کو جب الہام ہوں تو مرشد کو تو ان سے اعلیٰ الہام ہوتے ہوں گے ، موازنہ اور مقابلہ کریں اور وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ کی وعید سے ڈریں ۔ مولوی صاحب نے کہنے کو کہہ دیا مگر کوئی الہام اپنا یا کسی اپنے مرید کا پیش نہیں کیا کہ یہ الہام ہمارے ہیں اور یہ ہمارے مریدوں کے ہیں ۔ غرض کہ اب آپ کا حق ہے کہ اس بحث میں پڑیں اور مباحثہ کریں اور کسی طرح سے پہلو تہی نہ کریں ۔ کس لئے کہ ادھر تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا زور وشور سے بیان کرنا ، اور وفات کا دلیلوں یعنی نصوص صریحہ قرآنیہ اور حدیثیہ سے ثابت کرنا اور علماء اور ائمہ سلف کی شہادت پیش کرنا اور پھر مدعی مسیحیت کا کھڑا ہونا اور لوگوں کا رجوع کرنا اور آپ جیسے اور آپ سے بڑھ کر علماء کے مربہ مرید ہونے سے دنیا میں ہل چل مچ رہی ہے اور بحث ا اصل مسئلہ میں ہونی چاہئے ان کی یعنی عیسی علیہ السلام کی حیات و وفات میں ۔ بس میں نے یہ خط لکھا اور حضرت اقدس علیہ السلام کو ملاحظہ کرا کے روانہ کر دیا۔ ا الحاقة: ۴۵ ے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب تم جانتے ہو کہ علماء کا رجوع کرنا اور ہمارے ساتھ ہونا غلط نہیں ہے۔ ایک تو حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب ہیں جو ان سے کم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ کر ہی ہیں ۔ اور ایسا ہی مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب ہیں جنہوں نے رسالہ اعلام الناس چھپوا کر ہمارے دعوے کی تصدیق میں بھیجا ہے حالانکہ ان کی اور ہماری ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی ہے اور یہ کیسا عجیب رسالہ کہ اس میں ہمارا مافی الضمیر دیا ہے اور اس میں ہمارا اور مولوی صاحب کا توارد ہو گیا اور دو ایک اور مولویوں کے نام بھی لئے تھے جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہے۔ سند