مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 424

مکتوبات احمد طرف ۴۲۴ مکتوب نمبر ۹ بنام مولوی عبد الجبار غزنوی جلد اول مشفقی واخی مولوی عبد الجبار صاحب ! السلام علیکم ۔ ایک اشتہار جو عبدالحق کے نام سے جاری کیا گیا ہے ۔ جس میں مباہلہ کی درخواست کی ہے۔ کل کی ڈاک میں مجھے ملا ۔ چونکہ میں نہیں جانتا کہ عبدالحق کون ہے۔ آیا کسی گروہ کا مقتدی یا مقتدا ہے۔ اس وجہ سے آپ ہی کی خط ہذا لکھتا ہوں ۔اس خیال سے کہ میری رائے میں وہ آپ ہی کی جماعت میں سے ہے اور اشتہار بھی دراصل آپ ہی کی تحریک سے لکھا گیا ہو گا ۔ پس واضح ہو کہ مباہلہ پر مجھے کسی طرح سے اعتراض نہیں ۔ جس حالت میں میں نے اس مدعا کی غرض سے قریب بارہ ہزار کے خطوط و اشتہارات مختلف ملکوں میں بڑے بڑے مخالفوں کے نام روانہ کئے ہیں تو پھر آپ سے مباہلہ کرنے میں کون سی تامل کی جگہ ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارہ میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔ سو میں اسی الہام کی بنا پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں ۔ مجھے اس بات سے انکار بھی نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو ۔ بلکہ ہوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو ایک آنے والا تو خود میرے پر بھی ظاہر کیا گیا ہے جو میری ہی ذریت میں سے ہوگا۔ لیکن اس جگہ میرا دعوئی جو بذریعہ الہام مجھے یقینی طور پر سمجھایا گیا ہے۔ صرف اتنا ہے کہ قرآن شریف اور حدیث میں میرے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا کہ شائد مسیح موعود کوئی اور بھی ہوا اور شائد یہ پیشگوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں ظاہری اور یہ طور پر اس پر جمتی ہوں اور شائد سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔ لیکن میرے پر یہ کھول دیا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی تھی فوت ہو چکا ہے اور یحییٰ کی روح کے ساتھ اس کی روح دوسرے آسمان میں اور اپنے سماوی مرتبہ کے موافق بہشت بریں کی سیر