مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 423

مکتوبات احمد ۴۲۳ جلد اول اللہ تعالیٰ نے اس کو پسند کیا ہے۔ مباہلہ کی بنا یقین پر ہوتی ہے نہ اجتہادی خطا وصواب پر۔ جب مباہلہ سے غرض تائید دین ہے تو کیونکر پہلا قدم ہی دین کے مخالف رکھا جائے ۔ یہ عاجز انشاء اللہ ایک ہفتہ تک ازالة الاوہام کے اوراق مطبوعہ آپ کے لئے طلب کرے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ ابھی آپ کسی پر ان کو ظاہر نہ کریں ۔ اس کا مضمون آپ تک امانت رہے۔ اگر چہ بعض مقاصد عالیہ ابھی تک طبع نہیں ہوئے اور یکجائی طور پر دیکھنا بہتر ہوتا ہے۔ تا خدا نخواسته قبل از وقت طبیعت سیر نہ ہو جائے ۔ مگر آپ کے اصرار سے آپ کیلئے طلب کروں گا ۔ چونکہ میرا نوکر جس کے اہتمام اور حفاظت میں یہ کا غذات ہیں ۔ اس جگہ سے تین چار روز تک امرتسر جائے گا ۔ اس لئے ہفتہ یا عشرہ تک یہ کاغذات آپ کی خدمت میں پہنچیں گے ۔ آپ کیلئے ملاقات کرنا ضروری ہے ۔ ورنہ تحریر کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً استكشاف کرنا چاہئے ۔ والسلام خاکسار غلام احمد نوٹ : ۔ اس خط پر تاریخ نہیں ہے۔ لیکن ازالہ اوہام کی طبع کا چونکہ ذکر ہے۔ اس لئے پایا جاتا ہے کہ ۱۸۹۱ء کا یہ مکتوب ہے ۔ نواب صاحب قبلہ نے آپ کو مباہلہ کی درخواست منظور کرنے کے تعلق تحریک کی تھی ۔ جو عبد الحق غزنوی وغیرہ کی طرف سے ہوئی تھی ۔ اس کے جواب میں آپ نے یہ مکتوب لکھا۔ اس مکتوب سے آپ کی سیرت پر بھی ایک خاص روشنی پڑتی ہے اور آپ کے دعاوی پر بھی ۔ جب مباہلہ کے لئے آپ کھڑے ہونے کی آمادگی ظاہر کرتے ہیں تو صاف فرماتے ہیں ۔ پہلے یہ عاجز انبیاء کے طریق پر شرط نصیحت بجالا وے۔اپنے سلسلہ کو ہمیشہ منہاج نبوت پر پیش کیا ہے ۔ دوسرے آپ استكشاف حق کے لئے کسی سوال اور جرح کو نہیں مٹاتے بلکہ سائل کو شوق دلاتے ہیں کہ وہ دریافت کرے ۔ اس لئے کہ اسے آپ سعیدوں کی نشانی قرار دیتے ہیں ۔ ( عرفانی کبیر )