مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 420
مکتوبات احمد ۴۲۰ جلد اول اب آپ پر یہ واضح کرتا ہوں کہ میں نے مباہلہ سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا۔ اگر امر متنازعہ فیہ میں قرآن اور حدیث کی رو سے مباہلہ ہو تو میں سب سے پہلے مباہلہ کے لئے کھڑا ہوں لیکن ایسی صورت میں ہرگز مباہلہ جائز نہیں جب کہ فریقین کا یہ خیال ہو کہ فلاں مسئلہ میں کسی فریق کے اجتہاد یا فہم یا سمجھ کی غلطی ہے ۔ کسی کی طرف سے عمداً افترا یا دروغ بیانی نہیں ۔ کیونکہ مجرد ایسے اختلافات میں جو قطع نظر مصیب یا خطی ہونے کے صحت نیت اور اخلاق اور صدق پر مبنی ہیں ، مباہلہ جائز ہوتا اور خدائے تعالیٰ ہر ایک جزئی اختلاف کی وجہ سے مخطی پر عند المباہلہ عذاب نازل کرتا تو آج تک تمام اسلام کا روئے زمیں سے خاتمہ ہو جاتا کیونکہ کچھ شک نہیں کہ مباہلہ سے یہ غرض ہوتی ہے کہ جو فریق حق پر نہیں اس پر بلا نازل ہو۔“ اور یہ بات ظاہر ہے کہ اجتہادی امور میں مثلاً کسی جزئی میں حنفی حق پر نہیں اور کسی میں شافعی حق پر اور کسی میں اہل حدیث ۔ اب جب کہ فرض کیا جائے کہ سب فرقے اسلام کے جزئی اختلاف کی وجہ سے باہم مباہلہ کریں اور خدائے تعالیٰ ، اس پر جو حق پر نہیں، عذاب نازل کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنی اپنی خطا کی وجہ سے تمام فرقہ اسلام کے روئے زمیں سے نابود کئے جائیں ۔ اب ظاہر ہے کہ اس امر کے تجویز کرنے سے اسلام کا استیصال تجویز کرنا پڑتا ، وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک جو حامی اسلام اور مسلمین ہے، کیونکر جائز ہوگا ۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر اس کے نزدیک جزئی اختلافات کی وجہ سے مباہلہ جائز ہوتا تو وہ ہمیں یہ تعلیم نہ دیتا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا ، یعنی اے خدا ہماری خطا معاف کر اور ہمارے بھائیوں کی خطا بھی عفوفر ما بلکہ مصیب اور مخطی کا تصفیہ مباہلہ پر چھوڑتا اور ہمیں ہر ایک جزئی اختلاف کی وجہ سے مباہلہ کی رغبت دیتا لیکن ایسا ہر گز نہیں۔ اگر اس اُمت کے باہمی اختلافات کا مباہلہ سے فیصلہ ہونا ضروری ہے پھر تمام مسلمانوں کے ہلاک کرنے کیلئے دشمنوں کی نظر میں اس سے بہتر کوئی حکمت نہیں ہو گی کہ ان تمام جزئیات مختلف میں مباہلہ کرایا جائے تا کہ ایک ہی مرتبہ سب مسلمانوں پر قیامت آجائے ۔ کیونکہ کوئی فرقہ کسی خطا کی وجہ سے ہلاک ہو جائے گا اور کوئی کسی خطا کے سبب سے مورد عذاب وہلاکت ہوگا ۔ وجہ یہ کہ جزئی خطا سے تو کوئی فرقہ بھی خالی نہیں ۔ ا الحشرا