مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 419
مکتوبات احمد ۴۱۹ جلد اول کلام کی تلونیات میں فرق عظیم ہوتا ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کا یہ خط بڑی بھاری دلی طمانیت اپنے مولائے کرام پر قوی اعتماد و وثوق کی خبر دیتا ہے ۔ فقرہ فقرہ سے اس کے با مذاق عارفین دیتا ہے۔ با سمجھ سکتے ہیں کہ پس پردہ کوئی حمایت و نصرت کی بشارت و تسلی دینے والا ضرور ہے اور اس و ا وادی ایمن کے منتخب اولو العزم کی طرح جو ابتدا میں ضعف بشریت کی تحریک سے اَخَافُ اَنْ يَقْتُلُون کا عذر پیش کرتا تھا مگر بالآخر اِنَّنِي مَعَكُمَا اسْمَعُ وَ آریل کی بشارت آمیز آواز پر سرکش ناخدا ترس قوم کی طرف بے خوف چل دیا۔ جہاں بھی عادت اللہ اس مجد دکو تقویت دے رہی ہے ۔ عجب ہیں وہ دل جو اس پر رقیق ہونے میں نہ آئیں۔ انہیں ہر وقت یہ حدیث پیش نظر رکھنی چاہئے ۔ مَنْ عَادَى لِی وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ کے خداوند فرماتا ہے میرے دوست سے جو بیر کرے میں اسے اپنے ساتھ لڑنے کا نوٹس دیتا ہوں ۔ وہ خوف کریں کہ ایسا نہ ہو کہ وہ خدا سے لڑنے والے ٹھہریں ۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کے نام کے مکتوبات کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔ مگر میں اس خط کو یہاں اس لئے درج کر دیتا ہوں کہ زمانہ آئندہ کے مورخ کو آسانی ہو۔ ( الف ) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (عرفانی) نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میرے پیارے دوست نواب محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ! السلام علیکم ورحمة الله وبركاته - آر و برکاتہ ۔ آپ کا محبت نامہ عین انتظار میں مجھ کو ملا ۔ جس نے تعظیم سے دیکھا اور ہمدردی اور اخلاص کے جوش سے حرف حرف حرف پڑھا۔ میری نظر کو میں نے میں طلب ثبوت اور انکشاف حق کا طریقہ کوئی نا جائز اور ناگوار طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ سعیدوں کی ہی نشانی ہے کہ وہ ورطہ مذبذبات سے نجات پانے کے لئے حل مشکلات چاہتے ہیں ۔ لہذا یہ عاجز آپ کے اس طلب ثبوت سے نا خوش نہیں ہوا ۔ بلکہ نہایت خوش ہے اور آپ میں سعادت کی وہ علامتیں دیکھتا ہوں جس سے آپ کی نسبت عرفانی ترقیات کی امیدیں بڑھتی ہیں ۔ اطه: ۴۷ بخارى كتاب الرقاق باب التواضع حدیث ۶۵۰۲