مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 421

مکتوبات احمد ۴۲۱ جلد اول اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کسی صورت میں مباہلہ جائز ہے۔ سو واضح ہو کہ دو صورت میں مباہلہ جائز ہے۔ (۱) اول اس کافر کے ساتھ جو یہ دعوے رکھتا ہے کہ مجھے یقیناً معلوم ہے کہ اسلام حق پر نہیں اور جو کچھ غیر اللہ کی نسبت خدائی کی صفتیں میں مانتا ہوں ۔ وہ یقینی امر ہے۔ (۲) دوم اس ظالم کے ساتھ جو ایک بے جا تہمت کسی پر لگا کر اس کو ذلیل کرنا چاہتا ہے ثلاً ایک مستورہ کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے۔ کیونکہ میں نے بہ چشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا مثلاً یہ ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خوار ہے اور میں نے بچشم خود اس کو شراب پیتے دیکھا ہے ۔ سو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے ۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں بلکہ ایک شخص اپنے یقین اور رویت پر بنا رکھ کر ایک مومن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔ جیسے مولوی اسماعیل صاحب نے کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ میرے ایک دوست کی چشم دید بات ہے کہ مرزا غلام احمد یعنی یہ عاجز پوشیدہ طور پر آلات نجوم اپنے پاس رکھتا ہے اور انہیں کے ذریعہ سے کچھ کچھ آئندہ کی خبریں معلوم کر کے لوگوں کو کہہ دیتا ہے کہ مجھے الہام ہوا ہے ۔ سومولوی اسمعیل صاحب نے کسی اجتہادی مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا تھا بلکہ اس عاجز کی اہانت اور صدق پر ایک تہمت لگائی تھی ۔ جس کی اپنے ایک دوست کی رویت پر بنا رکھی تھی۔ لیکن اگر بنا صرف اجتہاد پر ہو اور اجتہادی طور پر کوئی شخص کسی مومن کو کافر کہے یا ملحد نام رکھے تو یہ کوئی تعجب نہیں ۔ بلکہ جہاں تک اس کی سمجھ اور اس کا علم تھا۔ اس کے موافق اس نے فتوی دیا ہے۔ غرض مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطعی اور یقین پر بنا رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی وغیرہ قرار دیتے ہیں ۔ پس مَا نَحْنُ فِيهِ میں مباہلہ اس وقت جائز ہوگا جب فریق مخالف یہ اشتہار دیں کہ ہم اس مدعی کو اپنی نظر میں اس قسم کا خطی نہیں سمجھتے کہ جیسے اسلام کے فرقوں میں مصیب بھی ہوتے ہیں اور مخطی بھی اور بعض فرقے بعض سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ بلکہ ہم یقین کلّی سے اس شخص کو مفتری جانتے ہیں اور ہم اس بات کے محتاج نہیں کہ یہ کہیں کہ امر متنازعہ فیہ کی اصل حقیقت