مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 306

مکتوبات احمد ۳۰۶ جلد اول مکتوب نمبر ۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي مخدومی مکرمی اخویم مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ بعد السلام علی سلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ میری نسبت سوء ظن مسلمان بھائیوں کا کسی معقول وجہ پر مبنی نہیں ہے۔ میں ایسے مسلمانوں کی فتح بیچ پر راضی ہوں ان کا ظن کسی طور سے درست ہونے میں نہیں آتا۔ یہ تو سچ بات ہے کہ مہمان نوازی کی نیت سے اور خود اپنی ذاتی ضروریات کی وجہ سے بہت کچھ روپیہ خرچ ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے لیکن یہ خیال کہ اکثر حصہ اس روپیہ کا وہی رقوم ہیں جو قیمت کتاب میں وصول ہوئیں یہ ایک ضعیف خیال ہے جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ واقعی حقیقت یہی ہے کہ جیسے مصارف زیادہ ہوتے گئے اللہ جل شانہ محض اپنے فضل و کرم سے ان کو انجام دیتا گیا۔ غایت مافی الباب یہ کہ عند الضرورت قیمت کتابوں میں سے بھی کچھ قدر قلیل خرچ ہوتا رہا ہے اور کچھ انہیں درمیانی کارروائیوں میں خرچ ہوا جو کتاب کے متعلق تھیں خیر سائلین اور معترضین کچھ سمجھیں اور کچھ خیال کر لیں لیکن مجھے خوب یقین حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ایسی حالت میں موت نہیں دے گا کہ ان بدظنیوں کا میرے پر کوئی اعتراض اس قسم کا باقی رہ جائے کہ جو کچھ اصلیت رکھتا ہو أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ طفل نو زاد کی نسبت میں نے کسی اخبار میں یہ مضمون نہیں چھپوایا کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کی تعریف ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء کے اشتہارات میں مندرج ہے ہاں کتنی دفعہ گمان ہوتا ہے کہ وہ ہی ہے کیونکہ یہی لڑکا تین کو چار کرنے والا ہوا۔ حضرت مسیح کے روز پیدائش میں پیدا ہوا ۔ (۳) سنا گیا ہے کہ اسی ماہ میں ستارہ مسیح بھی یورپ میں دکھائی دیا جیسا کہ نورافشاں میں درج ہے۔ (۴) اس کے روز پیدائش میں یعنی بعد تولد یہ الہامات ہوئے ۔ إِنَّا أَرْسَلْنَاهُ شَاهِدًا وَمُبَشِّراً وَّنَذِيرًا كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ البقرة: ١٠٧