مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 305
مکتوبات احمد ۳۰۵ جلد اول نے اس معاملہ میں میری رائے کو آپ کی رائے سے متفق نہیں کیا ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ مجھ کو منجانب اللہ اس بارے میں اعلان واشاعت کا حکم ہے اور جیسا کہ میرے آقا محسن نے مجھے ارشاد فرمایا ہے میں وہی کام کرنے کیلئے مجبور ہوں ۔ مجھے اس سے کچھ کام نہیں کہ دنیوی مصلحت کا کیا تقاضا ہے اور نہ مجھے دنیا کی عزت و ذلت سے کچھ سروکار ہے اور نہ اس کی کچھ پروا اور نہ اُس کا کچھ اندیشہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جن باتوں کے شائع کرنے کے لئے میں مامور ہوں ہر چند یہ بدظنی سے بھرا ہوا زمانہ اُن کو کیسی ہی تحقیر کی نگاہ سے دیکھے لیکن آنے والا زمانہ اُس سے بہت سا فائدہ اُٹھائے گا ۔ بعض احباب مجھ پر یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ اسراف کا خرچ ہے جو دو دوسو تین تین سو روپے ماہواری کا ہو جاتا ہے اور اسی خرچ نے طبع کتاب میں دقتیں ڈالیں اور انبار کا انبار قرضہ کا سر پر ہو گیا ۔ اس کے جواب میں بھی یہی عرض کرتا ہوں کہ اگر چہ یہ اعتراض سچ ہے مگر یہ مہمانداری محض للہ ہے اور اس میں بھی بار ہا تواضع اور اکرام ضیف کے لئے حکم ہوا ہے نہ تخفیف مصارف کے لئے ۔ تین سال کے عرصہ میں شاید چالیس ہزار سے کچھ زیادہ مہمان آئے ہوں گے اور جہاں تک لاقت تھی حسب توفیق خدا داد ان کی خدمت کی گئی ۔ سو بظاہر یہ نہایت درجہ کا اسراف معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ جل شانہ کو اپنے افعال میں مصالح ہیں اور میں اُسی کے حکم اور امر کا پیرو ہوں اور کسی دوسری کمیٹی یا جماعت کی پیروی نہیں کر سکتا اور نہ وہ اس کا روبار میں کچھ دخل دے سکتے ہیں ۔ ت کی پیروی نہیں کر سکے جس قدر میرے پر قرضہ اور حقوقِ عباد کے بار ڈالے گئے ہیں میں جانتا ہوں کہ میں اپنی قوت سے ان گراں باروں سے سبکدوش نہیں ہو سکتا بلکہ الہی قوت مجھے سبکدوش کرے گی اس فوق الطاقة کام میں کسی دوست کی کچھ پیش نہیں جا سکتی مگر وہ ایک ہے حقیقی دوست ہے جو ان غموں کے دُور کرنے پر قادر ہے ۔ حید الحکم ۷ ارفروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۶، ۷ والسلام ستمبر ۱۸۸۷ء