مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 307

مکتوبات احمد كُلُّ شَيْء تَحْتَ قَدَمَيْهِ ! ٣٠٧ جلد اول سو میرے نزدیک اب تک یہ الہامات ذوالوجوہ ہیں و دیگر علامات بھی ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ مکتوب نمبر ۳ ☆ والسلام ۱۶ ستمبر ۱۸۸۷ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی محمد حسین صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج ۲۸ رستمبر ۱۸۸۷ء کو آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ واضح رہے کہ اس عاجز کے قلم سے کوئی کلمہ رنج یا خفگی کا آپ کی نسبت نہیں نکلا ۔ بلکہ میں ممنون ہوں کہ آپ بغیر اس کے کہ اصل حال سے واقف ہوتے میرے خیر خواہوں اور خیرا ندیشوں اور نیک خیالوں میں رہے۔ سو میرے لئے آپ کا شکر کرنے کیلئے یہی کافی ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ آپ میں سچی محبت رہی ہے اور میرا دل شہادت دیتا ہے کہ فقط ایک سچی محبت کے جوش سے آپ قلم و زبان سے میری کارروائیوں کی نصرت میں لگے رہے ہیں ۔ ۔ سورنج اور اور خفگی کا کوئی محل نہیں ۔ تا میں نے آپ پر ایک واقعی حال اظہار کیا اور پھر وہ سب واقعی عذرات آپ کی نظر میں مکلفی نہ ہوئے تو بقول شخصے کہ طاقت بہماں نداشت خانہ مہماں گذاشت - چند الفاظ مؤدبانہ ترک نزاع کیلئے میں نے استعمال کئے ۔ ۔ شائد انہیں الفاظ کو آپ نے کلمہ رنج و خفگی سمجھا ہوگا۔ مگر حاشا وکلا میرا وہ منشاء نہیں ہے جو آپ نے سمجھا میں پھر بادب آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آئندہ اخراجات کی کمی اور تخفیف کی فکر میں میں آپ ہی ہوں مگر گذشتہ تدارک میرے حد امکان سے باہر ہے۔ اس قصور کا خود معترف ہوں کہ جو کچھ کتاب کی قیمت میں آیا وہ خرچ ہوتا رہا ہے۔ مگر یہ بات کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک میرے وہ مصارف کس رنگ میں ہیں اور نکتہ چینوں کی نظر میں کسی رنگ میں ۔ اس میں بحث کرنا نہیں چاہتا۔ کیونکہ گذری ہوئی بات کو طول دینا کچھ فائدہ نہیں اور میری رائے ناقص میں آپ کا اس فکر میں پڑنا مالا ملزم ہے۔ ا تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۱۹۹ حمید الحکم ۷ ارفروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۷