مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 210

مکتوبات احمد ۲۱۰ جلد اول ** ہوں گی ۔ اور یہی وہ عقیدہ ہے جو عقل اور انصاف کے موافق ہے۔ اور یہ نہایت شرارت اور خباثت اور حرام زدگی ہے کہ قرآن پر یہ طعن وارد کیا جائے کہ وہ صرف جسمانی بہشت کا وعدہ کرتا ہے ۔ قرآن تو صاف کہتا ہے کہ ہر یک جو بہشت میں داخل ہو گا وہ جسمانی روحانی دونوں قسم کی جزا پائے گا۔ اور جیسا کہ نعمت جسمانی اس کو ملے گی ۔ ایسا ہی وہ دیدار الہی سے لذت اٹھائے گا۔ اور یہی اعلیٰ لذت بہشت میں ہے۔ معارف کی لذت بھی ہوگی اور طرح طرح کے انوار کی لذت بھی ہوگی ۔ اور عبادت کی لذت بھی ہو گی ۔ مگر اس کے ساتھ جسم بھی اپنی سعادت تامہ کو پہنچے گا۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جس قدر قرآن نے بہشتیوں کی روحانی جزا کی کیفیت لکھی ہے انجیل میں ہر گز نہیں ۔ جس شخص کو شک ہو۔ ہمارے مقابل پر آئے اور ہم سے سنے اور انجیل کی تعلیم سناوے۔ اگر وہ غالب ہوا او اس نے ثابت کیا کہ انجیل میں بہشتیوں کی روحانی جزا قرآن سے بڑھ کر لکھی ہے تو ہم حلفاً کہتے ہیں کہ اسی وقت ہزار روپیہ نقد اس کو دیا جائے گا ۔ جس جگہ چاہے با ضابطہ تحریر دے کر جمع کرائے ۔ اے اندھو ! قرآن کے مقابل پر انجیل کچھ بھی چیز نہیں ۔ کیوں تمہاری شامت آئی ہے۔ گھروں میں آرام کر کے بیٹھو ۔ اب تمہاری رُسوائی کا وقت آ گیا ہے ۔ کیا تم میں کسی کو حوصلہ ہے ۔ کہ آرام سے آدمی بن کر مجھ سے آ کر بحث کر لے کہ بہشت کے بارے میں روحانی جزا کا بیان انجیل میں زیادہ ہے یا قرآن میں ۔ اور اگر انجیل میں زیادہ نکلا تو مجھ سے نقد ہزار روپیہ لے لے۔ جہاں چاہے جمع کرائے ۔ مجھے امید نہیں کہ کوئی میرے سامنے آوے۔ اللہ اللہ ! کیسی یہ قوم ظالم اور دغا باز ہے۔ جنہوں نے دنیا کی زندگی کے لئے آخرت کو بھلا دیا ہے۔ مگر ذرہ موت کا پیالہ پی لیں ۔ پھر دیکھیں ۔ گے کہ کہاں ہے یسوع اور اس کا کفارہ ۔ ہائے افسوس ان لوگوں نے ایک عاجز انسان اور عاجزہ کے ۔ بیٹے کو خدا بنا دیا۔ اور خدائے قدوس پر تمام نالایق باتیں روا رکھیں ۔ دنیا میں ایک ہی آیا۔ جو سچی اور کامل تو حید کو لایا۔ اس سے انہوں نے دشمنی کی ۔ ۔ اور یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ انجیل میں جسمانی جزا کی طرف کوئی اشارہ نہیں ۔ دیکھومتی کیسی تفصیل سے یسوع کا قول جسمانی جزا کے بارے میں بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے:۔ اور جس نے گھر یا بھائی یا بہن یا باپ یا جو رو یا بال بچوں یا زمین کو میرے نام پر چھوڑا سو گنا پاوے گا ۔ (۱۹ باب آیت (۲۹) دیکھو یہ کیسا صریح حکم ہے اس میں تو یہ بھی بشارت ہے کہ اگر عیسائی عورت یسوع کے لئے خاوند