مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 209
مکتوبات احمد ۲۰۹ جلد اول ملزم کرتا ہوں کہ وہ خدا جس کا رحم اس کے غضب پر غالب ہے ۔ جب اس نے سزا دینے کے وقت جسم کو خالی نہ چھوڑا تو کیا ضرور نہ تھا کہ وہ جزا کے وقت بھی اس اصول کو یا د رکھتا۔ کیا لائق ہے کہ ہم اس رحیم خدا پر یہ بدگمانی کریں کہ وہ سزا دینے کے وقت تو ایسا غضب ناک ہوگا کہ ہمارے جسموں کو بھی جلتے ہوئے تنور میں ڈالے گا ۔ لیکن جزا دینے کے وقت اس کا رحم اس درجہ پر نہیں ہو گا ۔ جس درجہ پر سزا کی حالت میں اس کا غضب ہوگا ۔ اگر جسم کو سزا سے الگ رکھتا تو بے شک جزا سے بھی اس کو الگ رکھتا ۔ مگر جبکہ اس نے سزا کے وقت جسم کو گناہ کا شریک سمجھ کر جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا۔ تو اے اندھو ! اور کوتاہ اندیشو ! کیا وہ ایمان اور عمل صالح کی شراکت کے وقت جسم کو جزا سے حصہ نہیں دے گا ؟ کیا جب مُردے جی اٹھیں گے تو بہشتیوں کو عبث طور پر ہی جسم ملے گا ؟ اور یہ بھی بدیہی بات ہے کہ جب جسم اپنے تمام قومی کے ساتھ روح سے پیوند کیا جائے گا تو وہ جسمانی قوی یا راحت میں ہوں گے یا رنج میں ۔ کیونکہ دونوں حالتوں کا مرتفع ہونا محال ہے۔ پس اس صورت میں ماننا پڑا کہ جیسا جسم سزا کی حالت میں دکھ اٹھائے گا ۔ ویسا ہی وہ جزا کی حالت میں ایک قسم کی راحت سے بھی ضرور متمتع ہوگا ۔ اور اسی راحت کی قرآن کریم میں تفصیل ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بہشت کی نعمتیں فوق الفہم ہیں ۔ تمہیں ان کا حقیقی علم نہیں دیا گیا اور تم وہ نعمتیں پاؤ گے جو اب تم سے پوشیدہ ہیں ۔ جو نہ دنیا میں کسی نے دیکھیں اور نہ سنیں اور نہ دلوں میں اور نہ اور نہ دا گذریں ۔ وہ تمام مخفی امور اسی وقت سمجھ میں آئیں گے۔ جب وارد ہوں گے ۔ جو کچھ قرآن اور اسی و حدیث میں وعدے ہیں وہ سب مثال کے طور پر بیان کیا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ امور مخفی ہیں ۔ جن کی کسی کو اطلاع نہیں ۔ پس اگر وہ لذات اسی قدر ہوتیں جیسے اس دنیا میں شربت یا شراب پینے کی لذت یا عورت کے جماع کی لذت ہوتی ہے۔ تو خدا تعالیٰ یہ نہ کہتا کہ وہ ایسے امور ہیں کہ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے۔ اور نہ کسی کان نے سنے ۔ اور نہ وہ کبھی کسی کے دل میں گزرے ۔ پس ہم مسلمان لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ بہشت جو جسم اور روح کے لئے دارالجزاء ہے۔ وہ ایک ادھورا اور ناقص دارالجزاء نہیں بلکہ اس میں جسم اور جان دونوں کو اپنی اپنی حالت کے موافق جزا ملے گی ۔ جیسا کہ جہنم میں اپنی اپنی حالت کے موافق دونوں کو سزا دی جائے گی ۔ اور اس کی اصل تفصیلات ہم خدا کے حوالے کرتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ جزا سزا جسمانی روحانی دونوں طور پر