مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 211

مکتوبات احمد ۲۱۱ جلد اول چھوڑے تو قیامت کو اسے سو خاوند ملیں گے ۔ اور اگر جسمانی نعمتوں کا وعدہ کرنا خدا تعالیٰ کی شان کے مخالف ہوتا تو توریت خروج ۳ باب ۸ آیت ۔ استثناء ۶ باب ۳ آیت ۷ باب ۱۳ آیت ، ۸ باب ۱۷ آیت اور قاضی ۹ باب ۱۲ آیت اور استثناء ۳۲ باب ۱۴ ۔ آیت استثناء ۱۶ باب ۲۰ آیت اور احبار ۲۶ باب ۱۳ آیت احبار ۲۵ باب ۱۸ تا ۲۳ آیت - ایوب ۲۰ باب ۱۵ تا ۱۷ آیت میں ہرگز جسمانی نعمتوں کے وعدے نہ دیئے جاتے۔ کیا یسوع نے یہ نہیں کہا کہ میں بہشت میں شیرہ انگور پیوں گا۔ عجیب یسوع ہے۔ جو مسلمانوں کی بہشت میں داخل ہونے کی تمنا رکھتا ہے۔ جس میں جسمانی نعمتیں بھی ہیں۔ اور پھر عجیب تریہ کہ جسمانی نعمتوں پر ہی گرا۔ دیدار الہی کا ذکر نہیں کیا ۔ لعاذر سے پانی مانگنا بھی ذرہ یاد کرو۔ جس بہشت میں پانی نہیں۔ اس میں پانی کا ذکر مصداق اس مثل کا ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد ۔ یہ سچ ہے کہ بہشت میں رہنے والے فرشتوں کی طرح ہو جائیں گے مگر یہ کہاں ثابت ہے کہ تبدیل خواص کر کے فی الحقیقت فرشتے ہی ہو جائیں گے اور انسانی خواص چھوڑ دیں گے ۔ ہاں یہ درست ہے کہ بہشت میں دنیا کی طرح نکاح نہیں ہوتے ۔ مگر بہشتی طور پر جسمانی لذات تو ہوں گے ۔ جیسے یسوع کو بھی انکار نہیں تھا۔ شیرہ انگور پینے کی امید کرتا گذر گیا۔ توریت سے ثابت ہے کہ جسمانی جزا بھی خدا کی عادت ہے۔ تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ غیر متبدل خدا قیامت کو بھی اپنی عادتیں بدل ڈالے ۔ تیسرا اعتراض آپ کا یہ ہے کہ اسلامی تعلیم میں ہے کہ جب تک کوئی کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو جائے ۔ تب تک ایسے شخص سے مواخذہ نہ ہوگا اور محض دلی خیالوں پر خدا پرسش نہیں کرے گا۔ مگر انجیل میں اس کے خلاف ہے۔ یعنی دلی خیالات پر بھی عذاب ہوگا ۔ اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ اگر انجیل میں ایسا ہی لکھا ہے۔ تو ایسی انجیل ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور حق بات یہی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمائی ہے ۔ کہ انسان کے دل کے تخیلات جو بے اختیار اٹھتے رہتے ہیں اس کو گناہ گار نہیں کرتے ۔ بلکہ عنداللہ مجرم ٹھہر جانے کی تین ہی قسم ہیں (۱) اول یہ کہ زبان پر نا پاک کلمے جو دین اور راستی اور انصاف کے برخلاف ہوں ، جاری ہوں (۲) دوسرے یہ کہ جوارح یعنی ظاہری اعضاء سے نافرمانی کی حرکات صادر ہوں حلا نوٹ : در حقیقت فرشتے بن جانا اور بات ہے مگر پاکیزگی میں ان سے مشابہت پیدا کرنا یہ اور بات ہے ۔منہ