مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 154
مکتوبات احمد اولد جلد اول لذت یابی اور تنعم کے آثار اس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ ، أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوْعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدْعُونَ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اب جاننا چاہئے کہ محبوبیت اور قبولیت اور ولایت حقہ کا درجہ جس کے کسی قدر مختصر طور پر نشان بیان کر چکا ہوں ۔ یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور سچے متبع المطففين : ۲۵ ۲ یونس : ۶۳ تا ۶۵ ۳ حم السجدة : ۳۱ تا ۳۲ ۴ البقرة: ۱۸۷ ترجمہ: خبر دار ہو یعنی یقیناً سمجھ کہ جو لوگ اللہ جل شانہ کے دوست ہیں یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے یا فلاں بلا سے کیونکر نجات ہوگی ۔ کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں اور نہ گزشتہ کے متعلق کوئی حزن واند وہ انہیں ہوتا ہے، کیونکہ وہ صبر دیئے جاتے ہیں۔ دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں یعنی خلاف ایمان و خلاف فرمانبرداری جو باتیں ہیں اُن سے بہت دور رہتے ہیں ۔ تیسری اُن کی یہ نشانی ہے کہ انہیں بذریعہ مکالمہ الہیہ درویائے صالحہ ) بشارتیں ملتی رہتی ہیں، اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی ۔ خدائے تعالیٰ کا ان کی نسبت یہ عہد ہے جو ٹل نہیں سکتا اور یہی پیارا درجہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے۔ یعنی مکالمہ الہیہ اور رویائے صالحہ سے خدا تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات ومخاطبات الہیہ سے مشرف ہوں ) یہی قانونِ قدرت اللہ جل شانہ کا ہے ) کہ جو لوگ ارباب متفرقہ سے منہ پھیر کر اللہ جل شانہ کو اپنا رب سمجھ لیں اور کہیں کہ ہمارا تو ایک اللہ ہی رب ہے (یعنی اور کسی کی ربوبیت پر ہماری نظر نہیں ) اور پھر آزمائشوں کے وقت میں مستقیم رہیں ( کیسے ہی زلزلے آویں، آندھیاں چلیں ، تاریکیاں پھیلیں ان میں ذرا تزلزل اور تغیر اور اضطراب پیدا نہ ہو۔ پوری پوری استقامت پر رہیں) تو ان پر فرشتے اُترتے ہیں (یعنی الہام اور رویائے صالحہ کے سے انہیں بشارتیں ملتی ہیں ) کہ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے دوست اور متوتی اور مہ وتی اور متکفل ہیں اور آخرت میں جو کچھ متکفل تمہارے جی چاہیں گے وہ سب تمہیں ملے گا۔ یعنی اگر دنیا میں کچھ مکروہات بھی پیش آویں تو کوئی اندیشہ کی بات نہیں کیونکہ ذریعہ