مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 155
مکتوبات احمد ۱۵۵ جلد اول کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار وانوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا ۔ ایک نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صالح کے مقابل پر، جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع ہو، کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معارضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہوگا یا جس قد را سرار غیبیہ تجھ پر کھلیں گے یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی یا جس طور سے تیری عزت اور شرف کے اظہار بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ: آخرت میں تمام غم دور ہو جائیں گے اور سب مرادیں حاصل ہوں گی ۔ اگر کوئی کہے کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جو کچھ انسان کا نفس چاہے اس کو ملے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ہونا نہایت ضروری ہے اور اسی بات کا نام نجات ہے ورنہ اگر انسان نجات پا کر بعض چیزوں کو چاہتا رہا اور ان کے غم میں کباب ہوتا اور جلتا رہا مگر وہ چیزیں اس کو نہ ملیں تو پھر نجات کا ہے کی ہوئی۔ ایک قسم کا عذاب تو ساتھ ہی رہا۔ لہذا ضرور ہے کہ جنت یا بہشت یا مکتی خانہ یا سرگ جو نام اس مقام کا رکھا جائے جو انتہا سعادت پانے کا گھر ہے وہ ایسا گھر چاہئے کہ انسان کو من کل الوجوہ اس میں مصفا خوشی حاصل ہو اور کوئی ظاہری یا باطنی رنج کی بات درمیان نہ ہو اور کسی ناکامی کی سوزش دل پر غالب نہ ہو۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ بہشت میں نالائق و نا مناسب باتیں نہیں ہوں گی مگر مقدس دلوں میں اُن کی خواہش بھی پیدا نہ ہو گی بلکہ ان مقدس اور مطہر دلوں میں جو شیطانی خیالات سے پاک کئے گئے ہیں، انسان کی پاک فطرت اور خالق کی پاک مرضی کے موافق پاک خواہشیں پیدا ہوں گی تا انسان اپنی ظاہری اور باطنی اور بدنی اور روحانی سعادت کو پورے پورے طور پر پالیوے اور اپنے جميع قومٹی کے کامل ظہور سے کامل انسان کہلاوے کیونکہ بہشت میں داخل کرنا انسانی نقش کے مٹا دینے کی غرض سے نہیں جیسا کہ ہمارے مخالف عیسائی و آر یہ خیال کرتے ہیں بلکہ اس غرض سے ہے کہ تا انسانی فطرت کے نقوش ظاہر و باطناً بطور کامل چمکیں اور سب بے اعتدالیاں دور ہو کر ٹھیک ٹھیک وہ امور جلوہ نما ہو جائیں جو انسان کے لئے بلحاظ ظاہری و باطنی خلقت اس کی کے ضروری ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ جب میرے مخصوص بندے ( جو برگزیدہ ہیں ) میرے بارہ میں سوال کریں اور پوچھیں کہ کہاں ہے؟ تو انہیں معلوم ہو کہ میں بہت ہی قریب ہوں۔ اپنے مخلص بندوں کی دعا سنتا ہوں جب ہی کہ کوئی مخلص بندہ دعا کرتا ہے ( خواہ دل سے یا زبان سے ) سن لیتا ہوں (پس اس سے قرب ظاہر ہے ) مگر چاہئے کہ وہ ایسی اپنی حالت بنائی رکھیں جس سے میں ان کی دعاسُن لیا کروں ۔ یعنی انسان اپنا حجاب آپ ہو جاتا ہے۔ جب پاک حالت کو چھوڑ کر دور جا پڑتا ہے تب خدائے تعالیٰ بھی اُس سے دور ہو جاتا ہے اور چاہیے کہ ایمان اپنا مجھ پر ثابت رکھیں ( کیونکہ قوت ایمانی کی برکت سے دُعا جلد قبول ہوتی ہے ) اگر وہ ایسا کریں تو رُشد حاصل کر لیں گے یعنی ہمیشہ خدائے عز وجل اُن کے ساتھ ہوگا۔ اور کبھی عنایت و رہنمائی الہی اُن سے الگ نہیں ہوگی ۔ سو استجاب دعاء بھی اولیاء اللہ کے لئے ایک بھاری نشان ہے۔ فتد بر منه