مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 153

مکتوبات احمد ۱۵۳ جلد اول بندوں میں سے ہو اور ۔ ہو اور چاروں طرف سے برگزیدگی کے انوار و آثار اس میں ظاہر ہوں ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ حقیقی قبولیت کے طور پر نافرمانوں کی دعا ہر گز نہیں سنتا بلکہ انہیں کی سنتا ہے کہ جو اس کی نظر میں راستباز اور اس کے حکم پر چلنے والے ہوں ۔ سو ابتلاء اور اصطفاء کی قبولیت ادعیہ میں ما بہ الامتیاز پر ۔ یہ ہے کہ جو ابتلاء کے طور پر دعا قبول ہوتی ہے اس میں متقی اور خدا دوست ہونا شرط نہیں اور نہ اس میں یہ ضرورت ہے کہ خدائے تعالیٰ دعا کو قبول کر کے بذریعہ اپنے مکالمہ خاص کے اس کی قبولیت سے اطلاع سے بھی دیوے اور نہ وہ دعائیں ایسی اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہیں جن کا قبول ہونا ایک امر عجیب اور خارقِ عادت متصوّر ہو سکے لیکن جو دعا ئیں اصطفاء کی وجہ سے قبول ہوتی ہیں ان میں یہ نشان نمایاں ہوتے ہیں ۔ (1) اوّل یہ کہ دعا کرنے والا ایک متقی اور راست باز اور کامل فرد ہوتا ہے ۔ (۲) دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالماتِ الہیہ اُس دعا کی قبولیت سے اس کو اطلاع دی جاتی ہے۔ (۳) تیسرے یہ کہ اکثر وہ دعا ئیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں ، جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے ۔ (۴) چوتھے یہ کہ ابتلائی دعا ئیں تو کبھی کبھی شاذ و نادر کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعا ئیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں ۔ بسا اوقات صاحب اصطفائی دعا کا ایسی بڑی بڑی مشکلات میں پھنس جاتا ہے کہ اگر اور شخص ان میں مبتلا ہو جا تا تو بحر خودکشی کے اور کوئی حیلہ اپنی جان بچانے کیلئے ہرگز اُسے نظر نہ آتا۔ چنانچہ ایسا ہوتا بھی ہے کہ جب کبھی دنیا پرست لوگ جو خدا تعالیٰ سے مہجور و ڈور ہیں بعض بڑی بڑی ہموم و عموم و امراض و اسقام وبلیات لانچل میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو آخر وہ باعث ضعف ایمان خدائے تعالیٰ سے ناامید ہو کر کسی قسم کا زہر کھا لیتے ہیں یا کنوئیں میں گرتے ہیں یا بندوق وغیرہ سے خودکشی کر لیتے ہیں لیکن ایسے نازک وقتوں میں صاحب اصطفاء کا بوجہ اپنی قوت ایمانی اور تعلق خاص کے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہایت عجیب در عجیب مدد دیا جاتا ہے اور عنایت الہی ایک عجیب طور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یہاں تک کہ ایک محرم راز کا دل بے اختیار بول اُٹھتا ہے کہ یہ شخص مؤید الہی ہے۔ (۵) پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا مور دعنایات الہیہ کا ہوتا ہے اور خدائے تعالیٰ اس کے تمام کاموں میں اس کا متوتی ہو جاتا ہے اور عشق الہی کا نور اور مقبولا نہ کبریائی کی مستی اور روحانی