مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 152
مکتوبات احمد ۱۵۲ جلد اول ہوں : کہ وہ بہت طویل ہے۔ یہ تھوڑا سا مضمون اس کی برداشت نہیں کر سکتا ۔ انشاء اللہ القدیر، اگر عمر نے وفا کی تو آئندہ ایک رسالہ مستقلہ اس بارے میں لکھوں گا لیکن بطور مختصر اس جگہ بشارت دیتا ہوں کہ وہ فرد کامل جو قوم پر اور تمام بنی نوع پر اپنے نفس کو فدا کرنے والا ہے وہ ہمارے نبی کریم ہیں یعنی سیدنا و مولينا ووحيدنا و فرید نا احمد مجتبیٰ محمد مصطفى الرسول النبي الامي العربي القرشي صلى الله عليه وسلم - اس جگہ میں نے سچے اور جھوٹے مذہب کی تفریق کیلئے وہ فرق جو زمین پر موجود ہے یعنی جو باتیں عقل اور کانشنس کے ذریعہ سے فیصلہ ہو سکتی ہیں ، کسی قدر لکھ دیا ہے لیکن جو فرق آسمان کے ذریعہ سے کھلتا ہے وہ بھی ایسا ضروری ہے کہ بجز اس کے حق اور باطل میں امتیا زمین نہیں ہو سکتا اور وہ یہ ہے کہ سچے مذہب کے پیرو کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ایک خاص تعلقات ہو جاتے ہیں اور وہ کامل پیرو اپنے نبی متبوع کا مظہر اور اس کے حالات روحانیہ اور برکات باطنیہ کا ایک نمونہ ہو جاتا ہے اور جس طرح بیٹے کے وجو د درمیانی کی وجہ سے پوتا بھی بیٹا ہی کہلاتا ہے اسی طرح جو شخص زیر سا یہ متابعت نبی پرورش یافتہ ہے اس کے ساتھ بھی وہی لطف اور احسان ہوتا ہے جو نبی کے ساتھ ہوتا ہے اور جیسے نبی کونشان دکھائے جاتے ہیں ایسا ہی اس کی خاص طور پر معرفت بڑھانے کیلئے اس کو بھی نشان ملتے ہیں ۔ سوایسے لوگ اس دین کی سچائی کے لئے جس کی تائید کے لئے وہ ظہور فرماتے ہیں ، زندہ نشان ہوتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ آسمان سے ان کی تائید کرتا ہے اور بکثرت ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور قبولیت کی اطلاع بخشا ہے۔ ان پر مصیبتیں بھی نازل ہوتی ہیں مگر اس لئے نازل نہیں ہوتیں کہ اُنہیں ہلاک کریں بلکہ اس لئے کہ تا آخران کی خاص تائید سے قدرت کے نشان ظاہر کئے جائیں ۔ وہ بے عزتی کے بعد پھر عزت پالیتے ہیں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں تا خدا تعالیٰ کے خاص کام ان میں ظاہر ہوں ۔ اس جگہ یہ نکتہ یا د رکھنے کے لائق ہے کہ دعا کا قبول ہونا دو طور سے ہوتا ہے ۔ ایک بطور ابتلاء اور ایک بطور اصطفاء ۔ بطور ابتلاء تو کبھی کبھی گنہگاروں اور نافرمانوں بلکہ کافروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ مگر ایسا قبول ہونا ۔ حقیقی قبولیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ از قبیل استدراج وامتحان ہوتا ہے لیکن جو بطور اصطفاء دعا قبول ہوتی ہے اس میں یہ شرط ہے کہ دعا کرنے والا خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ