The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 566

The Light of Truth — Page 72

72 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE الأبرار، ونريد أن يتوب الخلق توبة الأخيار، وأعظم مدّعائنا أن يطلب الناس حقيقة الإيمان، ويرغبوا إلى فهم دقائق العرفان، ويكثر التراحم والتحنّن فيهم، وينتهوا من السيئات وأنواع الهنات، فنجتهد لتحصيل هذا المقصد بالمواعظ الحسنة، والدعاء والنظر والهمة. هذه أصولنا، فمن عزا إلينا خلاف ذلك فقد افترى علينا. وما أقامنا على هذا إلا الربّ الذى يرسل نوره عند غلبة الظلام، ويبدى دواء عند كثرة السقام، وينجى عباده المضطرين. ولا شك أن الفتن قد كثرت في الأرض وصعدت الأدخنة إلى السماء، وهبت رياح مفسدة مبيدة من كل طرف إلى أقصى الأرجاء، ولو فصلنا هذه الفتن كلها لاحتجنا إلى المجلدات، وأبكينا كثيرا من الباكين والباكيات، وزلزلنا أقدام السامعين. وأنتم تعلمون أن لكل داء دواء، ولكل ظلام ضياء، فأراد ربي أن ينير الدنيا بعد ظلماتها، والله يفعل ما يشاء، أأنتم تنكرونه يا معشر العاقلين؟ ومع ذلك لسنا نميس كالأمراء، بل نحن نمشى في الطمر كالفقراء، ولا نجر ثوب الخيلاء، ونشكر القيصرة وحكامها على ما أحسنوا إلينا في أيام الضراء، وندعو لها صدقا وحقا ونرسل إليها هدية الدعاء، وندعوها بقول لين إلى الإسلام لتدخل في کہ لوگ ایمان کی حقیقت کو ڈھونڈیں اور دقائق عرفان کی طرف رغبت کریں اور باہم رحم اور مہربانی ان میں زیادہ ہو جائے اور بدیوں اور بدکاریوں سے رک جائیں سو ہم ایسے مقصد کے حاصل کرنے کے لئے مواعظہ حسنہ اور دعا اور نظر اور ہمت کے ساتھ کوشش کر رہے ہیں یہ ہمارا اصول ہے پس جو شخص اس کے بر خلاف ہماری طرف کوئی بات نسبت کرے سو اس نے ہم پر افترا کیا اور ہمیں اس بات پر صرف اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے وہ خدا جو اندھیرے کے وقت اپنا نور بھیجتا ہے اور بیماری کی کثرت کے وقت دوا ظاہر کرتا ہے اور اپنے بندوں کو بے قراری کی حالت میں بچالیتا ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ فتنے زمین پر بہت بڑھ گئے ہیں اور بہت سے دخان آسمان کی طرف چڑھے ہیں اور بگاڑنے والی اور ہلاک کرنے والی ہوائیں ہر یک طرف اور ہر یک ناحیہ سے چلی ہیں اگر ہم ان تمام فتنوں کی تفصیل کرنا چاہیں تو ہمیں کئی کتابیں لکھنے کی طرف حاجت پڑے گی اور ہم کئی مردوں اور عورتوں کو رلائیں گے اور سننے والوں کے قدم ہلائیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ ہر یک بیماری کی ایک دوا اور ہر یک اندھیرے کے واسطے روشنی ہے سو میرے پروردگار نے ارادہ کیا کہ دنیا کو اندھیرے کے بعد روشن کرے کیا اسے عقلمندو! تمہیں اس سے کچھ انکار ہے اور باوجود اس کے ہم امیروں کی طرح ناز سے نہیں چلتے بلکہ ہم فقیروں کی طرح پھٹے پرانے کپڑوں میں چلتے ہیں اور رعونت کے کپڑے ہم لڑکا نا نہیں چاہتے اور قیصرہ اور اس کے حکام کا ان کے ان احسانوں کی وجہ سے شکر کرتے ہیں جو سختی کے زمانوں میں ہم نے دیکھے ہیں اور قیصرہ کے لئے ہم صدق دل سے دعا کرتے ہیں اور دعا کا ہد یہ اس کو بھیجتے ہیں مگر یہ بات ہے کہ ہم اس کے مذہب پر راضی نہیں ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ خطا کاروں اور گمراہوں کا مذہب ہے اور ہم ادب اور نرمی سے اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں تا کہ وہ ہمیشہ کی نعمتوں میں داخل ہو جائے اور ہمیں تعجب ہے کہ ملکہ مکرمہ باوجود اس قدر ہو شیاری اور لطافت فہم کے جو اس کو امور دنیا میں حاصل ہے ایک عاجز بندہ کی پرستش کرے اور اس کو اپنا رب سمجھے حالانکہ وہ حقیقی معبود اور پاک ہے اس کا کوئی