The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 566

The Light of Truth — Page 70

70 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وأما ثناء هذا الرجل على الشيخ البطالوى، أعنى صاحب جريدة الإشاعة محمد حسين، وقوله إنه نعم الرجل ويستحق التحسين، فما نفهم سر هذا الأمر ونتعجب غاية التعجب، كيف أثنى عليه الرجل الذى يسبّ رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يرضى عن مؤمن الذي يحب رسول الله، ويشتم نبينا وسيدنا صلى الله عليه وسلم بكلمات ترتجف منها قلوب المسلمين. وما ننكر هذا الثناء، لعل البطالوي يكون عند المتنصرين هكذا ، ولعله نطق بكلمة سرّتْ أعداء رسول الله، ولكنا ما نرى أن نتكلم فى هذا ولا نطول الكلام فيه، وكل أحد يؤخذ بقوله، والله يرى عباده الصالحين والطالحين. وأما قول هذا الواشى وزعمه كأنى أريد ملكوتا فى الأرض أو إمارة في القوم، فإن هي إلا افتراء مبين. وتشهد كل من يسمع أنا لسنا طالبي ملكوت الأرض، ولا نريد إمارة هذه الدنيا وزينتها الفانية، إن نريد إلا ملكوت السماء التى لا تنفد ولا تفنى ولا تنقضى بالموت . ولا نطلب قهر الناس بالحكومة والسياسة والقضاء، بل نطلب عزيمةً قاهرة الأهواء فى الرضاء المولى الذي هو أحكم الحاكمين. وليس أصولنا إشاعة الفساد والطلاح والتبار، بل ندعو إلى الصلح والصلاح وطريق شخص اچھا آدمی اور قابل تحسین ہے۔ سو ہم اس بات کا بھید نہیں سمجھتے اور ہم نہایت متعجب ہیں کہ کس طرح محمد حسین کی ایسے شخص نے تعریف کی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور کسی ایسے مومن سے راضی نہیں جو محب رسول اللہ ہو اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کلموں کے ساتھ گالیاں نکالتا ہے جس سے مسلمانوں کے دل کانپ جاتے ہیں اور ہم تعریف سے انکار نہیں کرتے شاید شیخ بٹالوی کرشٹانوں کی نظر میں ایسا ہی ہو اور شاید وہ کوئی ایسا کلمہ بول اٹھا ہے جو دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا معلوم ہوا لیکن ہم مناسب نہیں دیکھتے جو اس بارے میں کلام کریں اور اس امر میں ہم کلام کو طول دینا نہیں چاہتے اور ہر یک اپنے قول سے پکڑا جائے گا اور خدا تعالیٰ نیک بختوں اور بدبختوں کو دیکھ رہا ہے۔ اور اس نکتہ چین کا یہ قول اور یہ گمان کہ گویا میں دنیا کی بادشاہت چاہتا ہوں یا اپنی قوم میں امیر بننے کی مجھے خواہش ہے سو یہ باتیں کھلا کھلا افترا ہے۔ اور ہم ہر یک کو جو سننے والا ہے گواہ کرتے ہیں جو ہم دنیا کی بادشاہت کے طالب نہیں اور نہ ہم دنیا کی امیری کو چاہتے ہیں اور نہ ہم اس دار فانی کی زینت کے خواہشمند ہیں ہم صرف اس آسمانی بادشاہت کو چاہتے ہیں جس کا انجام نہیں اور نہ کبھی وہ زوال پذیر ہے اور نہ مرنے سے دور ہو سکتی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ حکومت اور سیاست اور فرمانروائی کے ساتھ لوگوں کو مغلوب کریں بلکہ ہم ایسے عزم کے طالب ہیں جو رضائے مولی احکم الحاکمین کے لئے نفسانی جذبات پر غالب ہو اور ہمارا یہ اصول نہیں کہ ہم فساد اور بد بختی اور ہلاکت کی راہوں کی اشاعت کریں بلکہ ہم ان لوگوں کو صلح اور نیکی اور نکو کاروں کے طریق کی طرف بلاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ ایسی توبہ کریں جس طرح نیک لوگ تو بہ کرتے ہیں اور ہمارا بڑا مدعا یہی ہے