The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 566

The Light of Truth — Page 56

56 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE ملكنا المعلوم إلى بلاد العرب والروم، وحثثت الناس على إطاعتها. ومن كان في شك فليرجع إلى کتابی البراهين، وإن لم يكفِ لِشَكّه فلينظر كتابي التبليغ، وإن لم يطمئن فليقرأ كتابي الحمامة، وإن ذلك شك فليفكّر في كتابي الشهادة، وليس حرام عليه أن ينظر في هذه الرسالة أيضا ليتضح بقى مع عليه كيف أعلنتُ بصوت عال في منع الجهاد والخروج على هذه الدولة وتخطية المجاهدين. فلو كنتُ عدوا لهذه الدولة لفعلتُ أفعالا خلاف ذلك، وما أرسلتُ هذه الكتب وهذه الاشتهارات إلى ديار العرب وبلاد إسلامية، وما قدمت قدمى لهذه النصائح . فانظروا يا أولى الأبصار، لم فعلتُ هذه الأفعال، ولم أرسلتُ هذه الكتب التي فيها منع شديد من الجهاد لهذه الدولة في ديار العرب وفي غيرها من البلاد؟ أكنتُ أرجو إنعاما من سكان تلك البلاد أو كنت أعلم أنهم يرضون عنى بسماع تلك الكلمات ويزيدون في الأخوة والاتحاد؟ فإن لم يكن لى غرض من هذه الأغراض، بل كانت النتيجة البديهة سخط القوم وغضبهم على وطَعْنَهم بالألسنة الحداد، فبعده أى شيء حملني على ذلك؟ أكانت لنفسي فائدة أخرى في إرسال تلك الكتب إلى ديار ليست داخلة تحت الحكومة البريطانية، بل هي ممالك الإسلام ولهم خيالات دون ذلك كما لا يخفى على الخواص والعوام؟ فإن كانت فائدة مخفية فليبين لي من كان شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا کہ تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس کے شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کرے اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر میری کتاب حمامة البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری كتاب شهادة القرآن میں غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو بھی دیکھے تاکہ اس پر کھل جائے کہ میں نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں وہ خطا پر ہیں۔ پس اگر میں اس گورنمنٹ کا دشمن ہوتا تو میں ایسے کام کرتا جو میری اس کارروائی کے مخالف ہوتے اور یہ کتابیں اور یہ اشتہار بلاد عرب اور تمام بلاد اسلامیہ کی طرف روانہ نہ کرتا اور ان نصیحتوں کے لئے آگے قدم نہ اٹھاتا۔ پس اے آنکھوں آن والو ! تم سوچو کہ میں نے یہ یہ کام کام کیوں کیوں کئے کئے اور اور کیوں یہ کتابیں جن میں جہاد کی سخت ممانعت لکھی ہے۔ ملک عرب اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھیجیں کیا میں ان تحریروں سے ان لوگوں کے انعام کی امید رکھتا تھا یا میں یہ جانتا تھا کہ وہ ان باتوں سے مجھ سے خوش ہو جائیں گے اور دوستی اور برادری میں ترقی کریں گے سو اگر ان غرضوں میں سے کوئی غرض نہیں تھی بلکہ کھلا کھلا نتیجہ قوم کی ناراضگی تھی اور ان کی تیز زبانی کے ساتھ طعن تھے سو اس کے بعد کس غرض نے مجھ کو اس کام پر آمادہ کیا کیا میرے لئے ان کتابوں کی ایسے ملکوں میں بھیجنے میں جو حکومت انگریزی میں داخل نہیں تھے بلکہ وہ اسلامی ملک تھے اور ان کے خیال بھی اور تھے کچھ اور فائدہ تھا اور اگر کوئی فائدہ پوشیدہ تھا تو ایسا شخص جو میرے پر بد ظن رکھتا اور اعتراض کرنے والا ہے اس فائدہ کو بیان کرے اگر وہ سچا ہے تو سمجھو کہ بجز اظہار حق کے کوئی فائدہ نہیں تھا بلکہ میں نے سنا ہے کہ یہ میری باتیں اور یہ تحریریں بعض علماء کے غضب ناک ہونے کا موجب ہوئیں اور جہالت سے مجھے کافر ٹھہرایا سو میں نے حق کے