The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 566

The Light of Truth — Page 440

THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO ظَهَرَتْ عَلَامَاتُ الْخُسُوْفِ بِلَيْلَةٍ طَلْقٍ لَذِيْدٍ وَالرَّوَاعِدُ تَصْخَبُ مُتَفَرِّقُ غَيْمُ السَّمَاءِ وَزُجْلُهُ بِيْضُ كَأَنَّ نِعَاجَ وَادٍ تَسْرَبُ طَوْرًا يُرَى مِثْلَ النِّبَاءِ بِحُسْنِهَا أُخْرَى كَأَرَامٍ تَمِيْسُ وَ تَهْرُبُ قَمَرُ كَظُعْنٍ وَالسَّحَابُ قِرَامُهَا وَالرِّيحُ كِلْتُهَا لِيُنْهَى الْأَجْنَبُ صُبَّتْ عَلَى قَمَرِ السَّمَاءِ مُصِيبَةٌ وَكَمِثْلِنَا بِزَوَالِ نُورٍ يُرْعَبُ انی آری قَطْرًا لَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَبْكِي كَرَجُلٍ يُنْهَبَنْ وَيُخَيَّبُ چاند گرہن کی علامات ایک رات خوشنما میں ظاہر ہو گئیں اور بادل آواز کر رہے ہیں با دل الگ الگ ہیں اور ان کی جماعتیں سفید ہیں گویا جنگل کی بھیڑیں ایک طرف چلی جاتی ہیں بعض وقت تو یہ بادلوں کے ٹکڑے ہرنوں کی اور کبھی کم عمر ہرنوں کی طرح ناز سے چلتے اور طرح اپنے حسن میں ظاہر ہوتے ہیں بھاگتے ہیں چاند ہو دج نشین عورتوں کی طرح ہے اور بادل اور ہوا اس کا باریک پر دہ ہے تا کہ اجنبی کو اس ہو دہ کا موٹا پر دہ ہے آسمان کے چاند پر مصیبت پڑگئی روکا جاوے اور ہماری طرح نور کے زوال پر ڈرایا جاتا ہے میں مینہ اس کے پاس دیکھتا ہوں گویا کہ وہ اس شخص کی طرح روتا ہے جو لوٹا جائے اور نومید کیا جائے 440