The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 566

The Light of Truth — Page 434

THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO إِنِّي أَرَى إِيْذَاءَهُمْ وَفَسَادَهُمْ وَيَذُوبُ رُوْحِي وَالْوَجُودُ يُتَقَّبُ عَيْنٌ جَرَتْ مِنْ قَطْرِ دَمْعِ عَيْنُهَا قَلْبٌ عَلَى جُمُرِ الْغَضَا يَتَقَلَّبُ مِنْ كُلِّ قُنَّاتٍ وَجَبْلٍ شَاهِقٍ وَشَوَامِ نَسَلُوا وَوُطِئَ الْمِجْنَبُ وَعَلَى قِنَانِ الشَّامِخَاتِ مُصِيبَةٌ عُظمى فَأَيْنَ الْوَهْدُ مِنْهُمْ تَهْرُبُ رِيحُ الْمَصَائِفِ قَدْ أَطَالَتْ لَهْبَهَا مِنْ سَوْمِهَا وَسَهَامِهَا نَتَعَجَّبُ مَا بَقِيَ مِنْ سَبَبٍ وَلَا مِنْ رُمَّةٍ إِلَّا الَّذِي هُوَ قَادِرُ وَمُسَبِّبُ میں ان کے ایذا اور فساد دیکھتا ہوں اور روح گداز ہوتی ہے اور وجود میں سوراخ ہوتا ہے آنکھ سے آنسوؤں کی بارش کے ساتھ چشمہ جاری دل افروختہ کو ئیلوں پر جو غضا کی لکڑی کے ہیں ہے لوٹ رہا ہے تمام پہاڑوں کی چوٹیوں اور بلند پہاڑوں سے اور اونچے پہاڑوں سے دشمن دوڑے اور عرب کی سرحد تک پہنچ گئے اور بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایک بڑی مصیبت پس نشیب ان کے حملوں سے کہاں بھاگ جائیں ہے گرمی کی ہوانے اپنے شعلے لمبے کر دیئے اس کے چلنے اور اس کی لو سے ہم تعجب کرتے ہیں کوئی پکا سبب اور کوئی کچا سبب باقی نہ رہا مگر وہ خداجو سببوں کو پید ا کر تا ہے 434