The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 566

The Light of Truth — Page 428

428 THE LIGHT OF TRUTH-PART TWO الناس، فلا تتبعوا خطوات الخنّاس وأتونى مؤمنين. وأدعو الله أن يهب لكم فهما وبصرا ولسانا وقلبًا وأذنا ووجدانًا، ويهديكم ويجعلكم من المهتدين. اعلموا يا معشر الغافلين أن الله لا يضيع الدين، وقد جرت سُنّته واستمرت عادته، أنه إذا جاء زمان الظلام وجُعِل دين الإسلام غَرَضَ السهام، وطال عليه ألسنة الخواص والعوام، واختار الناس طرق الارتداد، وأفسدوا في الأرض غاية الإفساد ، فتتوجه القيومية الإلهية إلى حفظه وصيانته، ويبعث عبدًا لإعانته، فيجدّد دين الله بعلمه وصدقه وأمانته، ويجعل الله ذلك المبعوث زكيا وبالفيوض حريا، ويكشف عينه ويهب له علمًا غضًا طريا، ويجعله لعلوم الأنبياء من الوارثين. فيأتي في حُلل تُقابل حُلل فساد الزمان، وما يقول إلا ما علمه لسان الرحمن، وتُعطى له فنون من مبدأ الفيضان على مناسبات فساد أهل البلدان. ثم لا تعجب من أن روحانية القمر تقبل بعض أنوار الله في حالة الانخساف، وروحانية الشمس في وقت الانكساف، فإن هذا من أسرار إلهية، وعجائبات ربانية، فلا تكن من المرتابين. وربما يختلج في قلبك أنّ القرآن لا يشير إلى رمضان، فاعلم أنّ الفرقان ذكره على الطريق المجمل المطويّ، وهو كاف للبصير الزكي، ولا حاجة إلى تفصيل وتبيين. معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ دین کو ضائع نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کی سنت اور عادت اسی طرح پر جاری ہے کہ جب تاریکی کا زمانہ آ جائے اور دین اسلام تیروں کا نشانہ ٹھہرایا جاوے اور اس پر خواص اور عوام کی زبانیں جاری ہوں اور لوگ ارتداد کے طریقے اختیار کر لیں اور زمین میں غایت درجہ کا فساد ڈال دیں پس قیومیت الہیہ توجہ فرماتی ہے کہ تادین کی حفاظت کرے اور کوئی بندہ اس کی اعانت کے لئے کھڑا کر دیتا ہے پس وہ دین اسلام کو اپنے علم اور صدق اور امانت کے ساتھ تازہ کر دیتا ہے اور خدا اس مبعوث کو ز کی اور لائق فیض بناتا ہے اور اس کی آنکھ کھولتا ہے اور اس کو تازہ بتازہ علم بخشتا ہے اور نبیوں کے علموں کا اس کو وارث ٹھہراتا ہے۔ پس وہ ایسے پیرایوں میں آتا ہے جو فساد زمانہ کے پیرایوں کے مقابل پر ہوتے ہیں اور وہی کہتا ہے جو خدا کی زبان نے اسے سکھایا ہو اور مبدء فیضان سے کئی قسم کے علم اس کو دیئے جاتے ہیں جو زمانہ کے فساد کے موافق ہوں۔ پھر تو اس بات سے کچھ تعجب مت کر کہ چاند کی روحانیت حالت انحساف میں کچھ انوار الہی قبول کر لیتی ہے ایسا ہی سورج کی روحانیت بھی کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے ، بھیدوں اور عجائبات میں سے ہے پس اس میں شک مت کر۔ اور بسا اوقات تیرے دل میں یہ گذرے گا کہ قرآن رمضان کی طرف اشارہ نہیں کرتا پس جان کہ قرآن نے مجمل طور پر خسوف کسوف کا ذکر کیا ہے اور وہ ایک بصیر ز کی کے لئے کافی ہے اور کسی تفصیل کی حاجت نہیں۔